مودی ابھی بھارت واپس آنا نہیں چاہتے

للت مودی
،تصویر کا کیپشنمودی پر بدعنوانی کے الزامات ہیں

للت مودی بھارت کی مشہور کرکٹ لیگ آئی پی ایل کے بانیوں میں سے ایک ہیں جن پر اب اس لیگ میں بدعنوانی کرنے کے الزامات ہیں۔

بھارت کے کرکٹ بورڈ نے انہیں ان کے عہدے سے برطرف کر دیا تھا اور بدعنوانی کے تعلق سے انہیں بہت سے سوالات کے جواب دینے ہیں۔

تاہم للت مودی کا ان الزامات اور مقدمہ کے حوالے سے بھارت آ کر جواب دینے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

کافی دنوں سے وہ ملک سے باہر اور میڈیا کی آنکھ سے بھی اوجھل تھے تاہم چند روز قبل لندن میں انٹرنیشنل سپورٹس ایونٹ مینیجمنٹ کی ایک کانفرنس میں انہوں نےشرکت کی۔

اس کانفرنس میں مستقبل کےحوالے سے بھارت کے کھیل پر بات چیت ہونی تھی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ دو ہزار سولہ تک آئی پی ایل دنیا میں سب سے زیادہ دیکھی جانے والی لیگ بن جائیگي۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں اولمپک کھیلوں کو لانے کے لیے کوششوں کا وہ حصہ بننا پسند کریں گے اور ان کی زندگی میں ہی اولمپک کھیل بھارت میں ہوں گے۔

ستمبر میں للت مودی کو بدعنوانی کے الزام میں بھارتی کرکٹ سے خارج کردیا گیا تھا جس کے تناظر میں ایسا لگتا ہے کہ ان کا مستقبل مشکوک ہے۔

مودی پر ٹیکس نا دینے اور منی لانڈرنگ کے بھی الزامات ہیں۔ تاہم مودی نے ان تمام الزامات کو مسترد کیا ہے۔

لندن میں بھی مودی کے ساتھ محافظ دستوں کو دیکھا گیا اور کہا جارہا ہے کہ اگر وہ بھارت آئے تو انہیں مسلح گارڈز کی ضرورت ہوگي۔

فی الوقت مودی بھارت آنا نہیں چاہتے اور انہوں نے پوچھ گچھ کے لیے حکام کو اپنے پیسے پر لندن آنے کی دعوت دی ہے تاہم ایسا نہیں لگتا کہ حکام ان سے پوچھ گچھ کے لیے باہر جائیں گے۔

مودی کے بیانات سے لگتا ہے کہ وہ کرکٹ سے جڑے رہیں گے اور ان کے خیال میں امریکہ میں امریکہ میں ایسا بازار موجود ہے جہاں کرکٹ کو اپنی جگہ بنانی چاہیے۔

انہیں کرکٹ کے علاوہ دوسرے کھیلوں میں اتنی دلچسپی نہیں ہے کیونکہ دوسرے کھیلوں کی پیشکش وہ ٹھکرا چکے ہیں۔