ومبلڈن 2022: ’خوشی کی وزیر‘ انس جابر، گرینڈ سلام میں پہنچنے والی پہلی عرب خاتون

Jabeur smiles during her semifinal victory at Wimbledon

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانس جابر کی کامیابی کی مسکراہٹ اس وقت ٹینِس کی دنیا پر چھا گئی ہے۔

آپ کو یہ سمجھنے کے لیے تیونسی ہونے کی ضرورت نہیں ہے کہ انس جابر کو ان کے آبائی ملک میں ’وزيرة السعادة‘ (خوشی کی وزیر)' کیوں کہا جاتا ہے - اُن کے اِس عرفی نام کا تعلق اُس خوشی سے ہے جو وہ افریقی قوم کے پریشان حال لوگوں کے لیے لاتی ہے۔

27 سالہ نوجوان انس اپنی ہمیشہ کی مسکراہٹ کے لیے تقریباً اتنی ہی جانی جاتی ہے جتنی کہ اپنے معجزانہ شاٹس سے جو ان کے حریف کو سنبھلنے کا موقعہ ہی نہیں دیتے۔

اُن کے معجزانہ شاٹس نے ہی انھیں گرینڈ سلیم ٹورنامنٹ کے سنگلز فائنل میں جگہ بنانے والی پہلی مرد یا عورت عرب کھلاڑی بننے کا موقع دیا ہے۔ انھیں یہ کامیابی ومبلڈن ٹورنامنٹ میں ملی ہے جو دنیا کا قدیم ترین ٹینس مقابلہ ہے۔

یہ انس جابر کے کیریئر کا ایک اور اہم موقع ہے۔ 7 جولائی کو جرمن کھلاڑی ٹاٹینا ماریا کے خلاف سیمی فائنل میں فتح کی بدولت، وہ ویمن ٹینس ایسوسی ایشن (WTA) کی درجہ بندی میں دوسری پوزیشن پر پہنچ گئی ہیں۔ اس طرح وہ پہلی افریقی یا عرب مرد یا عورت کھلاڑی بن گئی ہیں جو اس مقام تک پہنچ پائی ہے۔

تفخر اور بردباری

اگرچہ، ٹینس میں ان کی کامیابی میں یہی کافی نہیں تھا کہ انھوں نے اپنے حریف کو شکست دی، بلکہ جس طرح انھوں نے اپنی حریف کو شکست دینے کے بعد نہایت عزت اور تکریم کے ساتھ ومبلڈن سینٹر کورٹ میں تماشائیوں کے سامنے پیش کیا تاکہ ان کی عزت افزائی بھی کی جائے، اُس نے بھی لوگوں کے دل مزید جیت لیے۔ جرمن کھلاڑی ٹاٹیانا حال ہی میں دوسرے بچے کو جنم دینے کے بعد ٹینِس کی گیم میں واپس آئی ہیں۔

انس جابر نے میچ کے بعد اپنے انٹرویو میں کہا، ’ٹاٹیانا بہت زیادہ عزت کے لائق ہے۔‘

Ons Jabeur, at 17, poses with the French Open girls' singles junior trophy in 2011

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانس جابر پہلے ہی فرینچ اوپن گرینڈ سلام جونئیر سنہ 2011 میں جیت چکی ہیں

’اگر میں نے ان کے دو بچے نہ دیکھے ہوتے تو میں کہتی کہ انھوں نے کبھی بچے پیدا نہیں کیے۔ یہ بہت سی خواتین کے لیے واقعی بہت متاثر کن بات ہے۔ میں اس کے لیے اُن کا بہت احترام کرتی ہوں۔‘

ایک ایسے کھیل میں جس میں ہر شخص اپنے مد مقابل کو پچھاڑنا چاہتا ہے، تیونس کی کھلاڑی کا رویہ بہت سے دوسرے کھلاڑیوں سے بالکل مختلف ہے۔

انھوں نے ٹاٹیانا ماریہ کے ساتھ اپنے مقابلے کے بارے میں کہا کہ ’یہ صرف ایک ٹینس میچ ہے۔ ہم جنگ یا کسی اور چیز میں نہیں گئے تھے۔‘

لیکن جابر کو خود کو ایلیٹ کھلاڑی کے طور پر منوانے کے لیے ایک لمبی جنگ لڑنا پڑی۔ جب وہ صرف تین سال کی تھیں تو وہ کورٹ سے گیندیں اُٹھایا کرتی تھیں۔ اس وقت ان کی والدہ ٹینس سیکھ رہی تھیں۔ جلد ہی وہ ایک ایسے ملک میں ٹینس ریکیٹ اٹھانے والی بن گئیں جس میں یہ کھیل کوئی زیادہ مقبول نہیں تھا۔

17 سال کی عمر میں انھوں نے فرنچ اوپن جونیئر سنگلز ٹائٹل جیت کر اپنی پہلی کامیابی حاصل کی۔ تاہم ٹینس کورٹ سے باہر وہ اپنے کیریئر کو آگے بڑھانے کے لیے جدوجہد کرتی رہیں۔

انھوں نے عربی زبان کے میگزین المجلہ کے ساتھ 2021 کے انٹرویو میں کہا کہ ’مجھے سپانسرز نے مسترد کر دیا تھا کیونکہ وہ دیکھتے تھے کہ میں کہاں سے آئی ہوں (میرا پس منظر کیا ہے)، ان کا یہ رویہ منصفانہ نہیں تھا۔ میں نے اس حقیقت کو قبول کیا، میں اس کیفیت سے نبرد آزما ہوئی۔‘

'مجھے واقعی میں اُس شخص پر فخر ہے جو میں آج ہوں، میں صرف دوسروں پر بھروسہ نہیں کرتی ہوں۔‘

اپنے ملک میں جابر کا اثر

لیکن جابر کو امید ہے کہ ان کی کامیابی کی کہانی مزید افریقی اور عرب لڑکیوں کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی ترغیب دے گی۔ تیونس کی ٹینس فیڈریشن کے مطابق جابر کا یہ اثر پہلے ہی نظر آ رہا ہے۔

Tunisian tennis coach Nabil Mlika, who trained a young Ons Jabeur for 10 years, teaches students at the Hammam Sousse tennis club in the Mediterranean port city of Sousse on May 13, 2022

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجابر کو اس بات کا اعزاز دیا جا رہا ہے کہ اُن کی وجہ سے تیونس میں پہت ساری بچیوں نے ٹینس کھیلنا شروع کردیا ہے

’جابر کے اثر‘ کی بدولت تیونس میں ٹینس کلبوں کی تعداد گزشتہ چند سالوں میں 30 سے بڑھ کر 50 تک پہنچ گئی ہے۔ انس جابر نے ومبلڈن میں کہا کہ ’میں بڑا مقام حاصل کرنا چاہتی چاہتی ہوں، بہت سی مزید نسلوں کو متاثر کرنا چاہتی ہوں۔‘

’میں اپنے ملک، مشرق وسطیٰ، افریقہ سے مزید کھلاڑیوں کو ابھرتے ہوئے دیکھنا چاہتی ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ ایک زمانے میں ہمیں اتنا یقین نہیں تھا کہ ہم یہ کر سکتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اب میں صرف یہ دکھانے کی کوشش کر رہی ہوں۔ امید ہے کہ لوگ متاثر ہو رہے ہوں گے۔'

جو بات یقینی ہے وہ یہ ہے کہ انس نے ڈبلیو ٹی اے کیلنڈر میں اپنے پہلے ٹورنامنٹ کو محفوظ بنانے کے لیے تیونس کی ٹینس فیڈریشن کو بھی فائدہ پہنچایا ہے۔

تیونس میں یاسمین اوپن اکتوبر میں کھیلا جائے گا، جب مقامی شائقین کو ’وزيرة السعادة‘ (خوشی کی وزیر) کے کھیل کو دیکھنے کا موقع ملے گا۔