پاکستان بمقابلہ جنوبی افریقہ: کیا پاکستانی کرکٹ ٹیم اپنے کھیل سے شائقین کی توجہ آئی پی ایل سے ہٹانے میں کامیاب ہو سکتی ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
سیاق و سباق سے ماورا ہو کر بھی دیکھا جائے تو دو مسابقتی ٹیموں کی دو طرفہ سیریز عموماً خاصے کی چیز ہوتی ہے۔
گو کہ پاکستان ون ڈے کرکٹ میں ابھی اس سطح تک نہیں پہنچا کہ اس کی دو طرفہ سیریز میں بھی شائقینِ کرکٹ کی دلچسپی ویسی ہی ہو جیسی انگلینڈ بمقابلہ آسٹریلیا یا بھارت بمقابلہ نیوزی لینڈ مقابلوں میں ہوتی ہے مگر ماضی قریب کے اعدادوشمار کچھ مختلف کہانی بتاتے ہیں۔
سنہ 2013-14 کی ون ڈے سیریز میں پاکستان نے ایک نئی تاریخ رقم کی جب پہلی بار کسی ایشیائی ٹیم نے جنوبی افریقہ کے خلاف اس کے اپنے ہی میدانوں اور کنڈیشنز میں ون ڈے سیریز جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔
حسنِ اتفاق یہ بھی ہے کہ یہ غیر متوقع کامیابی مصباح الحق کی قیادت میں ہی روپذیر ہوئی جو موجودہ سیریز میں پاکستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ ہیں۔
گو کہ اُس تاریخی سیریز کے اِدھر اُدھر پاکستان تین تین بار جنوبی افریقہ کے ہاتھوں ڈھیر ہوا مگر دلچسپ بات یہ رہی کہ ان سبھی ناکامیوں میں بھی دلِ ناتواں نے مقابلہ تو خوب کیا۔
عموماً سیریز کا آخری میچ ہی وہ موقع ٹھیہرا کہ جہاں پاکستان جیتتے جیتتے ایک دم شکست کی نہج پہ آن پہنچا۔
اس بار مگر معاملہ ذرا مختلف ہے۔
اسی حوالے سے مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
قسمت کی خوبی کہیے یا کچھ اور کہ پاکستان عالمی کرکٹ میں وہ واحد ٹیم ہے جس کے نمائندگان انڈین پریمئیر لیگ (آئی پی ایل) میں شرکت کی 'سعادت' سے محروم رہتے ہیں وگرنہ باقی سبھی کرکٹ بورڈز انڈیا کے ساتھ ایک ان دیکھے معاہدے سے بندھے ہیں کہ کسی بھی قسم کی دو طرفہ کرکٹ آئی پی ایل کے دورانیے میں خلل نہ ڈالنے پائے۔
جنوبی افریقہ کی کرکٹ انتظامیہ بھی کچھ ایسے ہی قول و قرار میں پھنسی ہوئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ پہلے دو ون ڈے انٹرنیشنل میچز کے بعد جنوبی افریقی ٹیم اپنے پانچ بہترین کھلاڑیوں سے محروم ہو جائے گی۔
ایسے میں جہاں باقی ماندہ سیریز کا رنگ پھیکا پڑنے کا امکان ہے، وہیں یہ بھی بعد از قیاس نہیں کہ اگر سیریز کے اوائل میں پاکستان نے مقابلہ برابر کا کیا تو فائنل میچ میں بازی پلٹ بھی سکتی ہے۔
ویسے بھی جب آئی پی ایل جیسے مہنگے برانڈ کا غلغلہ مچا ہو تو کسی دو طرفہ سیریز کو کون پوچھتا ہے؟
مگر پاکستانی سکواڈ کے نوجوان کھلاڑی یقیناً کچھ ایسا کر سکتے ہیں کہ شائقینِ کرکٹ آئی پی ایل سے ہٹ کر یہ پوچھنے پہ مجبور ہو جائیں کہ بھئی! ایسا کیسے ہو گیا؟
کچھ کورونا کے ستم کہہ لیجیے تو کچھ آئی سی سی کیلنڈر کے معاملات، کہ گذشتہ دو سال میں پاکستان نے صرف پانچ ون ڈے انٹرنیشنل میچز کھیلے ہیں۔
ادھر جنوبی افریقہ کو دیکھیے تو صورتِ حال اس سے بھی ابتر ہے کہ پچھلے ایک سال میں ایک بھی ون ڈے انٹرنیشنل نہیں کھیلا۔
مگر زمینی حقائق کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے تو دونوں ٹیموں کی مشکلات ایک سی رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک طرف پاکستان سرفراز احمد کے بعد نئی قیادت کی کھوج میں رہا ہے تو دوسری طرف جنوبی افریقی ٹیم بھی جھٹ پٹ ڈوپلیسی، مارکرم اور ڈی کاک کے عہد سے گزر کر اب ٹیمبا باووما کے دورِ قیادت میں داخل ہو رہی ہے۔
وسیع تر تناظر میں البتہ پاکستان وہ ٹیم ہے کہ جسے اپنی ہستی کا ثبوت لانے کا عقدہ درپیش ہے۔
آئی سی سی کی نئی تبدیلیوں کے بعد شروع کردہ ون ڈے کرکٹ سپر لیگ کے ٹیبل میں پاکستان آٹھویں نمبر پہ ہے۔
یاد رہے کہ پہلی آٹھ ٹیمیں ہی ورلڈ کپ میں براہِ راست شرکت کی اہل ہوں گی، اور آٹھویں نمبر پر ہونا کسی بھی لحاظ سے بابر اعظم کی ٹیم کے لیے خوش کن نہیں ہے۔
شاید اسی لیے بابر اعظم بے خوف کرکٹ کی بات کر رہے ہیں کہ بیٹنگ یونٹ کو اپنی صلاحیتوں پہ ایسا یقین ہو کہ وہ ساڑھے تین سو کا مجموعہ جڑنے یا اس کا تعاقب کرنے سے خائف نہ ہو۔
بہر طور پاکستان کا یہ نوجوان سکواڈ ہی مرکزِ نگاہ رہے گا کہ کچھ ایسا کر ڈالے جو شائقینِ کرکٹ کو آئی پی ایل سے توقف کرنے اور مڑ کر دیکھنے پہ مجبور کر دے۔
ایک طرف جنوبی افریقی پچز سیمرز کے لیے جنت ثابت ہو سکتی ہیں تو دوسری طرف ایشیائی بلے بازوں کے لیے امتحان بھی ہو سکتی ہیں۔ مقابلہ بہرحال دلچسپ رہے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دونوں ٹیموں کی ممکنہ الیون یہ ہو سکتی ہے۔
پاکستان: 1. فخر زمان 2. امام الحق 3. بابر اعظم 4. محمد رضوان 5. دانش عزیز 6. آصف علی 7. شاداب خان 8. فہیم اشرف 9. حسن علی 10. شاہین شاہ آفریدی 11. حارث رؤف
جنوبی افریقہ: 1. ایڈن مارکرم 2. کوئنٹن ڈی کاک 3. وان ڈر ڈسن 4. ٹیمبا باووما 5. ڈیوڈ ملر 6. ہینرچ کلاسن 7. آندیلے پھیلکوائیو 8. کگیسو ربادا 9. تبریز شمسی 10. اینرک نورکیہ 11. لنگی نگدی













