آخری ایشز ٹیسٹ میں انگلینڈ کی جیت، 47 سال بعد سیریز برابر

انگلینڈ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انگلینڈ اور آسٹریلیا کے مابین ایشز سیریز کے پانچویں ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ نے اتوار کے روز 135 رنز سے کامیابی حاصل کر کے سیریز 2-2 سے برابر کر دی ہے۔

تاہم گذشتہ ایشز جیتنے کے نتیجے میں ایشز کا اعزاز آسٹریلیا کے پاس ہی رہے گا۔ 47 سال میں یہ پہلا موقع ہے کہ ایشز سیریز برابر رہی ہو۔

اول کے گراؤنڈ میں کھیلے جانے والے سیریز کے آخری میچ میں انگلینڈ کے بولرز نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دونوں اننگز میں آسٹریلیا کو بہت بڑے سکور نہیں کرنے دیے۔

یہ بھی پڑھیے

میچ کی پہلی اننگز میں انگلینڈ نے 294 رنز بنائے جس کے جواب میں آسٹریلوی ٹیم 225 رنز بنا سکی۔ دوسری اننگز میں انگلینڈ نے 329 رنز بنا کر 399 رنز کا ہدف دیا جس کے جواب میں مہمان ٹیم 263 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔ سنہ 1948 سے اب تک آسٹریلیا نے ایشز میں اتنا بڑا ہدف کامیابی سے حاصل نہیں کیا ہے۔

سیریز کے چوتھے میچ تک 2-1 کی ناقابلِ شکست برتری حاصل کر کے آسٹریلوی ٹیم پہلے ہی اس بات کو یقینی بنا چکی تھی کہ وہ ایشز کا اعزاز برقرار رکھیں گے۔

،تصویر کا ذریعہPA Images

،تصویر کا کیپشنسیریز کے چوتھے میچ تک 2-1 کی ناقابلِ شکست برتری حاصل کر کے آسٹریلوی ٹیم پہلے ہی اس بات کو یقینی بنا چکی تھی کہ وہ ایشز کا اعزاز برقرار رکھیں گے۔

انگلینڈ کی جانب سے دوسری اننگز میں سٹورٹ براڈ نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کیا اور انگلش اٹیک کی قیادت کی۔ انھوں نے چار اہم وکٹیں حاصل کیں۔ اس میچ میں جیک لیچ نے چار جبکہ جوفرا آرچر نے (پہلی اننگز میں) چھ وکٹیں حاصل کیں۔

آسٹریلوی اوپنر سٹیون سمتھ کے لیے یہ سیریز انتہائی کامیاب رہی ہے اور اس سیریز میں متعدد سنچریوں کی بدولت وہ آئی سی سی کی موجودہ ٹیسٹ رینکنگ میں پہلے نمبر پر ہیں تاہم ایک سال پہلے تک پابندی کے باعث ان کی اس ایشز سیریز میں شرکت بھی مشکوک تھی۔

دوسری جانب سٹورٹ براڈ نے اس ایشز سیریز کی دس اننگز میں سے سات مرتبہ آسٹریلوی اوپنر ڈیوڈ وارنر کو آؤٹ کیا۔

اگرچہ انگلینڈ کرکٹ کے لیے یہ ایک خواب سے کم نہیں کہ جس سال وہ پہلی مرتبہ ایک روزہ کرکٹ کے چیمپیئن بنے اسی سال وہ ایشز بھی واپس حاصل کر لیتے تاہم ورلڈ کپ جیتنے اور ایشز برابر کرنے پر بھی برطانوی ٹیم کو کافی سراہا جا رہا ہے اور اس سال کو ایک کامیاب سیزن تصور کیا جا رہا ہے۔