پاکستان کی بیٹنگ ایک مرتبہ پھر ناکام، پوری ٹیم 294 پر آؤٹ

کیپ ٹاؤن میں پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے نیولینڈز گراؤنڈ میں ہونے والے دوسرے ٹیسٹ کے تیسرے دن پاکستان کی بیٹنگ نے ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا کہ وہ جنوبی افریقہ کے بولروں کے سامنے بے بس ہے۔ اگرچہ اسد شفیق، شان مسعود اور بابر اعظم نے کچھ مزاحمت دکھائی لیکن باقی کھلاڑیوں نے ان کا ساتھ نہ دیا اور اس طرح پوری ٹیم 294 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔

اب جنوبی افریقہ کو میچ جیتنے کے لیے صرف 41 رنز درکار ہیں اور اس کے پاس یہ ہدف حاصل کرنے کے لیے گیارہ کھلاڑی اور دو دن باقی ہیں۔

پاکستان کی اوپننگ کا مسئلہ ابھی بھی حل نہیں ہو سکا اور آؤٹ آف فارم امام الحق ایک مرتبہ پھر 6 رنز بنا کر پویلین کو واپس لوٹ گئے۔ اس وقت ٹیم کا کل سکور 10 تھا۔ پہلی اننگز کی طرح اظہر علی نے دوسری اننگز میں بھی مایوس کن کارکردگی دکھائی اور امام الحق کی طرح صرف 6 ہی رنز بنا پائے۔

فخر زمان کی بری فارم بھی جاری رہی اور وہ ربادا کی گیند پر انھیں کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔ فخر زمان پہلی اننگز میں بھی صرف ایک رن بنا پائے تھے۔

اگر پاکستان کی طرف سے کسی نے جنوبی افریقہ کے بولروں کا مقابلہ کیا تو وہ شان مسعود، اسد شفیق اور بابر اعظم تھے۔ تینوں نے نصف سنچریاں بنائیں لیکن ان کے ساتھ بھی یہی مسئلہ رہا کہ وہ لمبی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے۔

اسد شفیق ایک عمدہ اننگز کھیل کر 88 کے سکور پر فیلینڈر کا شکار بنے۔ شان مسعود نے بھی اچھی اننگز کھیلی اور 61 کے سکور پر ڈیل سٹین کا دوسرا نشانہ بنے۔ اسد شفیق اور شان مسعود نے 132 رنز کی پارٹنرشپ بنائی۔

بابر اعظم 72 رنز بنا کر ربادا کی گیند پر ھاشم آملہ کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔ یاسر شاہ کو ڈیل سٹین نے پانچ رنز پر آؤٹ کیا اور محمد عامر بغیر کوئی رن بنائے سٹین کی ہی گیند پر آؤٹ ہوئے۔ کپتان سرفراز احمد بھی رنز بنانے میں ناکام رہے اور انہیں اولیئر نے 6 رنز پر آؤٹ کیا۔

آخری آؤٹ ہونے والے کھلاڑی شاہین آفریدی تھے جو 14 رنز بنا کر ربادا کی گیند پر آؤٹ ہوئے۔

اس اننگز میں ڈیل سٹین اور ربادا سب سے کامیاب بولر رہے اور دونوں کے حصے میں چار چار وکٹیں آئیں۔

پاکستان کھانے کے وقفے تک اپنی دو وکٹیں کھو چکا تھا۔

امام الحق ڈیل سٹین کی گیند پر ایلگر کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے جبکہ اظہر علی کو ربادا نے ایل بی ڈبلیو آؤٹ کیا۔

پاکستان کی پہلی وکٹ 10 اور دوسری 27 کے سکور پر گری۔

جنوبی افریقہ کی پوری ٹیم آج گذشتہ روز کے سکور میں 49 رنز کا اضافہ کر کے 431 کے سکور پر آؤٹ ہو گئی تھی۔

دوسرے دن کے کھیل کے اختتام تک جنوبی افریقہ نے چھ وکٹوں کے نقصان پر 382 رنز بنائے تھے۔

پاکستان کی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں 177 رنز بنا پائی تھی۔

جنوبی افریقہ کی اننگز کی خاص بات کپتان فاف ڈو پلیسی کی سینچری تھی۔ انھوں نے 103 رنز کی اننگز کھیلی اور باووما کے ساتھ پانچویں وکٹ کی شراکت میں 156 رنز بنائے اور اپنی ٹیم کو ایک مضبوط پوزیشن پر لے آئے۔

ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن جنوبی افریقہ نے اپنی پہلی اننگز 123 رنز دو کھلاڑی آؤٹ پر دوبارہ شروع کی تو پاکستان کو پہلی کامیابی جلد ہی مل گئی جب محمد عباس نے 24 کے انفرادی سکور پر ہاشم آملہ کو بولڈ کر دیا۔

پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان ٹیسٹ سیریز کے بارے میں مزید پڑھیے

پاکستان کو چوتھی کامیابی 149 کے مجموعی سکور پر ڈی بریون کی وکٹ شاہین شاہ آفریدی نے حاصل کی، انھوں نے 13 رنز بنائے۔

جنوبی افریقہ کی پانچویں وکٹ 305 کے مجموعی سکور پر گری جب شاہین شاہ آفریدی نے باووما کو آؤٹ کیا، انھوں نے 75 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی۔

پاکستان کو چھٹی کامیابی 356 کے مجموعی سکور پر ملی جب شاہین شاہ آفریدی نے ڈو پلیسی کو آؤٹ کیا، انھوں نے 103 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔

اس سے قبل ٹیسٹ میچ کے پہلے دن جنوبی افریقہ نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے کھیلنے کی دعوت دی تو پاکستانی اننگز کا آغاز اچھا نہ تھا، پاکستان کی جانب سے شان مسعود اور سرفراز احمد کے علاوہ کوئی بھی بلے باز جنوبی افریقی بالروں کا پر اعتماد انداز میں سامنا نہ کر سکا۔

جنوبی افریقہ کی جانب سے اولیوئیر نے چار، ڈیل سٹین نے تین، ربادہ نے دو اور فلینڈر نے ایک وکٹ حاصل کی۔

پاکستان کی جانب سے سرفراز احمد 56، شان مسعود 44 اور محمد عامر 22 رنز کے ساتھ نمایاں سکورر رہے تھے۔

سینچورین میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں چھ وکٹوں سے شکست کے بعد پاکستان نے حسن علی کو ڈراپ کر کے فاسٹ بولر محمد عباس کو واپس لایا ہے جبکہ جنوبی افریقہ نے بھی سپنرکیشیو مہاراج کو ڈراپ کر کے کیپ ٹاؤن کے باسی ورنون فلینڈرز کو ٹیم میں شامل کیا ہے۔