آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’یہ کرکٹ کا نہیں، سوچ کا ٹاکرا ہے‘
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
پاکستان اور بھارت کو کرکٹ کھیلتے دہائیاں بیت چکیں، دونوں ملکوں کے مابین کئی ایک یادگار میچز کھیلے جا چکے، ایک سے ایک بڑے کھلاڑی گزرے اور تاریخ یہ ہے کہ آج بھی دو طرفہ مقابلوں میں پاکستان کا ریکارڈ بھارت سے کہیں بہتر ہے۔ اس شماریاتی برتری کا نفسیاتی ترجمہ یہ ہے کہ تاریخی طور پہ پاکستان کی کرکٹ قریب ہر دور میں بھارت سے بہتر رہی ہے۔
لیکن ابھی اس شماریاتی برتری پہ پھولے سمانے کا سوچا ہی جاتا ہے کہ ایک ناقابل فہم حقیقت سامنے آ رکتی ہے۔ تمام تر اعدادوشمار کا وزن اپنی جگہ، مگر آئی سی سی ایونٹس کی 42 سالہ تاریخ میں پاکستان بھارت کو صرف دو بار ہرا پایا ہے۔ بھارت 13بار ایسا کر چکا ہے۔ اور پاکستان ان دو فتوحات کے باوجود ورلڈکپ میں آج تک بھارت کو شکست نہیں دے پایا۔
یہ ایک ایسی خلش ہے جو پاکستان کو بے چین کئے رہتی ہے۔ ہر بار جب دونوں ٹیمیں کسی گلوبل ایونٹ میں مدمقابل ہوتی ہیں تو اس طرح کے اعدادوشمار دہرا دہرا کر 24 گھنٹے کی نشریات کا کوٹہ پورا کیا جاتا ہے۔ اور پھر انہی سکرینوں پہ اصل میچ سے پہلے ایک میچ بھی کھیل لیا جاتا ہے۔ دونوں ملکوں کے سینئیر کرکٹرز آمنے سامنے ہوتے ہیں اور دلیل کا جواب تذلیل سے دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
لیکن ان سبھی ہنگاموں کے باوجود نہ تو حقیقت بدل پائی نہ تاریخ۔
اس سوال کا جواب ڈھونڈتے ڈھونڈتے کرکٹرز کی تین نسلیں ریٹائر ہو چکیں مگر نہ تو عمران خان کچھ بتا پائے نہ وسیم اکرم۔ اور تو اور پاکستان کی تاریخ کے کامیاب ترین کپتان بھی ورلڈکپ میں بھارت کو نہ ہرا پائے۔ حالانکہ دو ایک بار چھوڑ کر، سبھی ادوار میں پاکستان کی ٹیم بھارت سے بہتر رہی ہے، مگر اس سوال کا جواب آج تک نہیں مل پایا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یا شاید جواب ہمارے سامنے پڑا رہا اور ہم نے اسے درخوراعتنا نہ جانا، کہ جب پوری دنیا کے سامنے کوئی پاکستانی کرکٹر بھارت کے خلاف میدان میں اترتا ہے تو اسے لگتا ہے کہ اسے صرف میچ ہی نہیں جیتنا بلکہ کم از کم دو سو سالہ تاریخ کا ریکارڈ بھی درست کرنا ہے۔ آج اسے دنیا کو بتانا ہے کہ بھارت نے اس کے ملک سے کئی زیادتیاں کی، مگر وہ اکیلا اس قابل ہو چکا ہے کہ بھارت کو مزہ چکھا سکے۔ اسے سب کو یہ دکھانا ہے کہ وہ اور اس کا ملک عسکری میدان سے لے کر بائیس قدم کی پچ تک، ہر جگہ بھارت سے بہتر ہے۔
اور جب وہ اس سوچ کے ساتھ میدان میں اترتا ہے تو اس کے اعصاب پہ صرف غصہ ہوتا ہے۔ اور غصے کا یہ ہے کہ جہاں عقل جواب دے جائے، وہاں سے یہ شروع ہوتا ہے۔
پچھلے میچ میں سرفراز بھی اسی غصے کے ساتھ میدان میں اترے تھے، آوٹ آف باکس کھیلے تھے اور نتیجہ سب دیکھ چکے۔ صرف یہی نہیں، ان دو طرفہ مقابلوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں۔ موہالی ہو کہ بنگلور، پاکستان کبھی بھی اپنی گیم سے نہیں ہارا، ہمیشہ اپنے جذبات کے ہاتھوں ہارا ہے۔
جذبات کی حدت دماغوں کو ایسے ماوف کر چھوڑتی ہے کہ ہاتھ بلا گھمانا بھول جاتے ہیں، آنکھیں خلاوں میں گھورتے گھورتے افق کے پار دیکھنے لگتی ہیں اور گیند سامنے سے ہوتی باؤنڈری پار پہنچ جاتی ہے۔ وکٹ وہی 22 قدم ہوتی ہے مگر سوچ کا بوجھ اتنا ہوتا ہے کہ قدم فاصلے بھول جاتے ہیں۔
ایسے میں سوال صرف یہ ہے کہ کل سرفراز ایک نئی تاریخ لکھنے کی کوشش کریں گے یا اسی پرانی دو سو سالہ تاریخ کی تصحیح کی ایک اور جنگ لڑیں گے؟