مشکوک بولنگ ایکشن کا قانون سب کے لیے یکساں ہو: حفیظ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر محمد حفیظ بولنگ ایکشن کلیئر ہونے پر خوش لیکن مشکوک بولنگ ایکشن کے قانون اور اس کے ذریعے بولرز سے نمٹنے کے طریقہ کار سے مطمئن نہیں ہیں۔
محمد حفیظ نے بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ مشکوک بولنگ ایکشن کا قانون غیر واضح ہے کیونکہ یہ مائنڈ سیٹ کی بات ہے کہ اگر امپائرز کسی بولر کے بارے میں منفی سوچ رکھتے ہیں تو ہر چیز بری لگے گی۔
'اس وقت بھی انٹرنیشنل کرکٹ میں ایسے کھلاڑی بولنگ کر رہے ہیں جن کے بولنگ ایکشن میں گڑبڑ لگتی ہے لیکن انہیں رپورٹ نہیں کیا گیا لہذٰا اس قانون کو ایسی جگہ لانے کی ضرورت ہے جہاں تمام شکوک وشبہات دور ہو جائیں جو ذہنوں میں آتے ہیں کہ کسی بولر کے بولنگ ایکشن کو رپورٹ کر دیا اور کسی کو نہیں۔'
محمد حفیظ نے کہا کہ وہ اس بات ہر ہمیشہ زور دیتے آئے ہیں کہ مشکوک بولنگ سے متعلق قانون تمام بولرز کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔اس کا اطلاق تمام بولرز پر ہونا چاہیے۔
محمد حفیظ کو امید ہے کہ اس سال دوسری مرتبہ بولنگ ایکشن کلیئر ہونے کے بعد دوبارہ انہیں اس طرح کی صورتحال اور پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنے کریئر میں ایک ہی انداز اور ایکشن سے بولنگ کی ہے اور اس میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں کی۔وہ اب بھی اسی ایکشن سے بولنگ کریں گے جس سے وہ پہلے کرتے آئے ہیں۔
محمد حفیظ کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم میں واپسی کے لیے پرامید ہیں۔ وہ اب مکمل فٹ ہیں اور ڈومیسٹک کرکٹ بھی کھیل رہے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ وہ انٹرنیشنل کرکٹ میں واپس آ کر بیٹنگ کے ساتھ ساتھ بولنگ میں بھی پاکستانی ٹیم کے کام آئیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ دنیا کے نمبر ایک آل راؤنڈر کا اعزاز دوبارہ حاصل کریں جو انہیں پہلے ملا تھا۔







