جب تک ٹیم کو ضرورت ہے کھیلتا رہوں گا: مصباح

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ وہ ٹیم کو مشکلات میں چھوڑکر اپنا کریئر ختم نہیں کریں گے اور اس وقت تک کھیلتے رہیں گے جب تک ان کی کارکردگی ٹیم کے کام آتی رہے گی۔
مصباح الحق نے بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ان کی کوشش ہو گی کہ پاکستانی ٹیم کو جب تک ان کی ضرورت ہے وہ اپنا کردار ادا کرتے رہیں اور ٹیم کو ایسی صورت میں ہرگز چھوڑ کر نہ جائیں جس سے سب کے لیے مشکلات پیدا ہو جائیں۔
مصباح الحق نے کہا کہ ان کے نزدیک ٹیم کا مفاد سب سے اہم ہے اور وہ اس دن کرکٹ چھوڑنے میں دیر نہیں لگائیں گے جب انہیں یہ احساس ہو گا کہ ٹیم اب ان کے بغیر زیادہ بہتر طریقے سے آگے جا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ٹیم مشکل صورتحال سے دوچار ہے اور ان کی کوشش ہے کہ اسے اس مشکل سے نکالیں۔ہر کرکٹر کو ایک دن اپنا کریئر ختم کرنا ہے تاہم انہوں نے فی الحال اپنی ریٹائرمنٹ کے بارے میں نہیں سوچا ہے۔
مصباح الحق نے تسلیم کیا کہ انگلینڈ کے دورے میں پاکستانی ٹیم نے اپنی شاندار کارکردگی سے جو اعتماد حاصل کیا تھا اسے پہلے ویسٹ انڈیز کے خلاف شارجہ ٹیسٹ اور پھر نیوزی لینڈ میں دونوں ٹیسٹ میچوں کی شکست سے دھچکہ پہنچا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی ٹیم نے عالمی نمبر ایک رینکنگ حاصل کر کے جو ساکھ بنائی تھی اسے دوبارہ بحال کرنے کے لیے غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔
مصباح الحق نے کہا کہ آسٹریلیا کا دورہ پاکستانی ٹیم کے لیے کبھی بھی آسان نہیں رہا ہے لیکن موجودہ ٹیم اس قابل ہے کہ وہ اچھی کارکردگی دکھا سکتی ہے لیکن اس کے لیے اپنی صلاحیتوں کو پوری طرح بروئے کار لانا ہو گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مصباح الحق نے کہا کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ٹیسٹ کی دوسری اننگز اور پھر شارجہ ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں پاکستانی بیٹسمین اپنی صلاحیت کے مطابق نہیں کھیلے تھے اور شارجہ ٹیسٹ کی شکست سے ان پر دباؤ آ گیا تھا اور جب نیوزی لینڈ میں انہیں مشکل کنڈیشنز کا سامنا کرنا پڑا تو ان میں اعتماد کی کمی واضح طور پر نظر آئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مصباح الحق نے کہا کہ ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ دونوں ٹیسٹ میچوں میں پاکستانی ٹیم نے ہر شعبے میں خراب پرفارمنس دی جس کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔
مصباح الحق نے کہا کہ بدقسمتی یہ رہی کہ تمام ہی بیٹسمین جن پر ٹیم انحصار کرتی ہے وہ سب ایک ساتھ ہی ناکام ہو گئے حالانکہ یہ وہ بیٹسمین ہیں جنہوں نے صرف متحدہ عرب امارات ہی میں نہیں بلکہ انگلینڈ میں بھی بڑی اننگز کھیلی تھیں۔
مصباح الحق کا کہنا ہے کہ ان کے بولرز نیوزی لینڈ کے برعکس آسٹریلیا میں زیادہ کامیاب ثابت ہو سکیں گے کیونکہ نیوزی لینڈ میں جو وکٹیں تھیں ان پر صرف سیم بولرز کو مدد ملتی ہے اور پاکستانی بولرز کو ان وکٹوں کا تجربہ نہیں تھا ایسی وکٹیں انہیں انگلینڈ میں بھی نہیں ملی تھیں جبکہ آسٹریلیا میں باؤنسی وکٹوں پر وہ ریورس سوئنگ اور روایتی سوئنگ سے موثر ثابت ہو سکیں گے۔








