برطانوی ہیکر امریکہ کے حوالے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی وزیر داخلہ جان ریڈ نے امریکی فوجی کمپیوٹر نیٹ ورک توڑنے والے برطانوی ہیکر کو امریکہ کے حوالے کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ مسٹر گرے میکنن پر امریکی فوج کے کمپیوٹر نیٹ ورک کو توڑنے کا الزام ہے۔ نومبر دو ہزار دو میں گرفتاری کے بعد انہوں نے امریکہ کے حوالے کیے جانے کے خلاف مقدمہ دائر کردیا تھا۔ ان کے خاندان کا کہنا ہے کہ حوالگی کے خلاف اپیل دائر کرنے کے لیئے ان کے پاس چودہ دن ہیں۔ گرے میکنن نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ پریشان ہیں اور برطانوی حکومت کے اس فیصلے نے ان کا سر جھکا دیا ہے۔ لندن میں مئی میں بوسٹریٹ میجسٹریٹس کورٹ کے ڈسٹرکٹ جج نے گرے میکنن کو امریکہ کے حوالے کرنے کی منظوری دی تھی تاہم انہوں نے حتمی فیصلہ وزیر داخلہ پر چھوڑ دیا تھا۔ وزارت داخلہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ چار جولائی کو وزیرخارجہ نے مسٹر میکنن کو امریکہ کے حوالے کیے جانے کے حکم نامے پر دستخط کیئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اپنے دفاع کا حق استعمال کرتے ہوئے مسٹر میکنن نے حوالگی کے خلاف دلائل دیئے لیکن وزیر داخلہ نے انہیں قابل توجہ قرار نہیں دیا۔ انہیں اس فیصلے کے خلاف اپیل کے لیئے چودہ دن دیئے گئے ہیں۔ مسٹر میکنن کو پہلی مرتبہ برطانوی ہائی ٹیک کرائم یونٹ کی جانب سے دوہزار دو میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر امریکی آرمی، نیوی، ائیر فورس اور محکمہ دفاع کے زیر استعمال کمپیوٹر نیٹ ورک توڑنے کا الزام تھا۔ حوالگی کے بارے میں امریکہ کا کہنا ہے کہ مسٹر میکنن کے اس عمل سے اسے سات لاکھ ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا ہے اور کمپوٹر سسٹم کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کے لیے ایک ماہ سے زائد کا عرصہ لگا۔ گلاسگو میں پیدا ہونے والے میکنن نے اقرار کیا ہے کہ انہیں امریکی سسٹم کے تفصیلی جائزے میں دوسال کا عرصہ لگا اور وہ کسی تحقیقی کام کے دوران اتفاقا امریکی نیٹ ورک میں داخل ہوئے۔ ان کے وکیل کا کہنا ہے کہ انہیں مشتبہ خیال کرتے ہوئے گوانتاناموبے کی جیل میں بھیج دیا جائے گا۔ | اسی بارے میں ہیکروں کے رحم وکرم پر07.04.2003 | صفحۂ اول انٹرنیٹ فون میں ہیکروں کی دلچسپی20 September, 2005 | نیٹ سائنس ہیکرز: اچھے بھی برے بھی15 March, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||