BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Sunday, 05 March, 2006, 11:18 GMT 16:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلاگ سپاٹ:پابندی کے خلاف تحریک

پاکستا ن میں بلاگ سپاٹ پر پابندی کے خلاف ایکشن گروپ بھی تشکیل دیا گیا ہے
حکومتِ پاکستان کی جانب سے پیغمبر اسلام کے متنازعہ کارٹون شائع کر نے والی ویب سائٹس پر پابندی لگانے کے بعد پاکستان میں بلاگ سپاٹ تک رسائی پاکستان سے بند ہو گئی ہے۔

بلاگ سپاٹ انٹرنیٹ پر بلاگ لکھنے کی ایک بڑی ویب سائٹ ہے جسے پاکستانی بلاگرز کی ایک بہت بڑی تعداد باقاعدگی سے استعمال کرتی ہے۔

حکومت کے ا س اقدام کے ردعمل کے طور پر ابتدا میں جہاں پاکستانی بلاگز پر اس پابندی کے توڑ اور ’انانیمائزر ویب سائٹس‘ کے ذریعے بلاگ سپاٹ تک رسائی کے طریقے شائع ہو رہے تھے تو اب حکومت کی عائد کردہ اس پابندی نے پاکستا نی بلاگرز کی ’بلاگ سپاٹ جاری کرو تحریک‘ کو جنم دیا ہے۔

’ہیلپ پاکستان ڈاٹ کام‘ پر پاکستانی بلاگرز کے اظہار آزادی کے تحفظ کی آن لائن تحریک کا آغاز کیا گیا ہے جس کے تحت مختلف پاکستانی بلاگز پر ایک بینر آویزاں ہے جس پر ’Don’t block the blog‘ درج ہے۔

اس کے علاوہ پاکستا ن میں بلاگ سپاٹ پر پابندی کے خلاف ایکشن گروپ بھی تشکیل دیا گیا ہے ـ ان اقدامات کا مقصد حکومتِ پاکستان کو انٹرنیٹ پر بلاگ سپاٹ پر اجتماعی بلاک ہٹانے پر مجبور کرنا ہے۔ اس کے علاوہ بیشتر بلاگرز اس پابندی کے خلاف اپنا احتجاج اپنے بلاگز کی تحریروں میں بھی کر رہے ہیں۔

 اگر حکومت ہر ایک ویب سائٹ تک جس پر یہ کارٹون موجود ہیں رسائی روکنے پر تلی ہوئی ہے تو کیا دنیا کے سب سے بڑی مفت اوپن سورس انسائکلوپیڈیا ’وکی پیڈیا‘ پر بھی پابندی لگائی جائے گی کیونکہ اس پر بھی تو وہ متنازعہ کارٹون موجود ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو پاکستانی معلومات کے سب سے بڑے آن لائن ذریعے سے محروم ہو جائيں گے اور پاکستان کا کوئی قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا۔
دانیال احمد

کچھ بلاگ لکھنے والوں کی تحریریں مندرحہ ذیل ہیں :

دانیال احمد: چار مارچ

یوں لگتا ہے کہ کچھ لوگ پاکستانی بلاگرز کے احتجاج اور غم وغصہ کو پیغمبر اسلام کے متنازعہ خاکوں کی حمایت تصور کر رہے ہیں۔ بیشتر پاکستانی بلاگرز اس بات سے متفق ہیں کہ یہ خاکے غلط تھے اور مسلم امّہ ان کی اشاعت پر احتجاج کرنے کا پورا حق رکھتی ہے تاہم پاکستانی ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کا یہ فیصلہ بے تکا ہے اور ملکی آئین کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ اگر ہم پی ٹی اے کے تمام بلاگ سپاٹ کی ویب سائٹس کو بلاک کرنے کے فیصلہ کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے تناظر میں بھی دیکھیں تو بھی اس کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

بلاگ محض ایک ویب سائٹ نہیں ہوتا اور بلاگ سپاٹ پر بےشمار بلاگز موجود ہیں جن میں سے بیشتر بلاگز پر متنازعہ کارٹون شائع نہیں ہوئے صرف چند ایک پر ایسا کیا گیا تھا۔

اور اگر حکومت ہر ایک ویب سائٹ تک جس پر یہ کارٹون موجود ہیں رسائی روکنے پر تلی ہوئی ہے تو کیا دنیا کے سب سے بڑی مفت اوپن سورس انسائکلوپیڈیا ’وکی پیڈیا‘ پر بھی پابندی لگائی جائے گی کیونکہ اس پر بھی تو وہ متنازعہ کارٹون موجود ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو پاکستانی معلومات کے سب سے بڑے آن لائن ذریعے سے محروم ہو جائيں گے اور پاکستان کا کوئی قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا۔

 پی ٹی اے نے چند بلاگ ’بین‘ کرنے کے چکر میں پاکستانی عوام کو ایسے ہزاروں بلاگ سے بھی محروم کردیا ہے جہاں انفارمیشن ٹیکنالوجی، سائنس، سیاست، علم اور ادب پر سینکڑوں پوسٹس روزانہ لکھی جارہی ہیں۔
نعمان

ٹیت مائسٹرو۔ ڈاکٹر عواب علوی: چار مارچ

چند روز تک بلا‍گ اسپاٹ تک رسائی نہ ہونے پرملا جلا رجحان تھا ـ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ یہ گوگل یعنی اس بلاگ سروس فراہم کر نے والی کمپنی کی جانب سے کسی تکنیکی خرابی کا نتیجہ ہے ـ تاہم انانیمس پروکسی کے ذریعہ جب ان(بلاگ اسپاٹ) ویب سائٹس تک رسائی ہو رہی تھی تو یہ واضح ہو گیا کہ یہ ویب سائٹس بالکل صحیح کام کر رہی ہیں اور انہیں سنسر کیا جا رہا ہے۔ میں ان خاکوں کی مذمت کرتا ہوں اور یہ سمجھتا ہوں کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد ہونا چاہیے مگر پی ٹی اے کے احمقانہ فیصلہ پر سرکاری طور پر سرزنش ہونی چاہیے۔ ہم پاکستانی بلاگرز ان ہزاروں بلاگز جن کا ان متنازع خاکوں سے کوئی تعلق نہیں ہے پر عائد کردہ پابندی کے خلاف احتجاج کرنے میں متحد ہے اور ہم پی ٹی اے سے درخواست کر تے ہیں کہ وہ بلاگ اسپاٹ پر اجتماعی پابندی کو ختم کرے ـ

نعمان کی ڈائری: چار مارچ

اگر کارٹون بلاک کرنے کے سلسلے میں بلاگ اسپاٹ کو بلاک کرنا صحیح ہے تو پھر پی ٹی اے کو یاہو، گوگل، وکی پیڈیا وغیرہ سب بلاک کر دینا چاہیے کیونکہ وہاں پر ہر کوئی نہایت آسانی سے کارٹون دیکھ سکتا ہے لیکن ظاہر ہے پی ٹی اے یہ نہیں کر سکتا کیونکہ اس سے پاکستانی انٹرنیٹ صارفین معلومات کے اہم ترین ذرائع سے محروم ہو جائیں گے۔ یہی کچھ بلاگ اسپاٹ کے بارے میں بھی کہا جاسکتا ہے۔ کیونکہ بلاگ اسپاٹ پر اگر ایک طرف کچھ لوگ توہین آمیز خاکے نقل کررہے ہیں تو دوسری طرف ہزاروں بلاگرز نے ان خاکوں کی مذمت بھی کی ہے۔ ایسے بھی کئی بلاگ اسی بلاگ اسپاٹ پر موجود ہیں جو پڑھنے والوں کو غیرمتشدد اور پرامن احتجاج جاری رکھنے کی تلقین کرتے ہیں۔ پی ٹی اے نے چند بلاگ ’بین‘ کرنے کے چکر میں پاکستانی عوام کو ایسے ہزاروں بلاگ سے بھی محروم کردیا ہے جہاں انفارمیشن ٹیکنالوجی، سائنس، سیاست، علم اور ادب پر سینکڑوں پوسٹس روزانہ لکھی جارہی ہیں۔ آئین پاکستان کے تحت یہ ایک سنگین غلطی ہے جس کا ادراک پی ٹی اے کو جتنی جلد ہوجائے اتنا ہی اچھا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد