نقل اور اصل کا جھگڑا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پشاور میں گزشتہ ماہ سی ڈی پر ریلیز ہونے والی پشتو کی ایک نئی فلم ’مینہ درنہ غواڑم’ یا مبحت مانگتا ہوں سی ڈی پر ریلیز کی گئی۔ تاہم اس فلم کے بازار میں آنے کے چند گھنٹوں کے اندر ہی اس کی نقلی کاپی بھی ویڈیو کی دوکانوں پر نظر آنے لگی۔ قیمت وہی، کور تقریبا وہی اور فلم تو ہے ہی وہی۔ تقریبا ڈھائی گھنٹے کی اس فلم میں موسیقی، لڑائی، ڈائیلاگ سب کچھ ہے اور قیمت صرف پینتیس روپے۔ ’مینہ درنہ غواڑم’ تیار کرنے والے نندارا سی ڈی ہاوس کے سعید خان نے بتایا کہ اس نقل نے انہیں لاکھوں کا نقصان پہنچایا ہے۔ ’ہم تو اپنا خرچہ بھی پورا نہیں کر سکے ہیں، کمائیں گے کیا خاک۔’ سعید خان اس نقصان میں اکیلے نہیں ہیں۔ پشاور میں سی ڈیز کے مرکز نشتر آباد میں تمام سی ڈی فلمساز اس مسلے سے دوچار ہیں۔ صوبہ سرحد میں کچھ عرصہ پہلے تک سی ڈیز پر پشتو فلمیں اور ڈرامے تیار کرنے کا کاروبار کافی منافع بخش ثابت ہو رہا تھا۔ لیکن اب ان فلموں کی ریلیز ہونے کے چند گھنٹوں کے اندر اندر ان کی جعلی سی ڈیز کے بازاروں میں آنے سے اس کاروبار کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ کم قیمت، سینما گھروں کی بدحلی اور تھیٹروں کی بندش نے ہی سی ڈی پر بننے والی ان فلموں کو ناصرف مقبول بلکہ منافع بخش بھی بنا دیا تھا۔ ہر ماہ اوسط سات آٹھ فلمیں پشاور میں تیار ہو کر سی ڈیز پر فروخت ہو رہی ہیں۔ لیکن اوسط تقریبا ایک لاکھ روپے کے خرچے سے تیار یہ فلمیں ریلیز ہونے کے چوبیس گھنٹوں کے اندر پائرسی کی نظر ہوجاتی ہیں۔ سینما روڈ پر راحت سی ڈی ہاوس کے راحت علی نے اس مسلے کی سنگینی پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ اس وقت پشاور کا سب سے سنگین مسلہ ہے۔ ’ہمیں لاکھوں کا نقصان ہو رہا ہے۔ حکومت بھی اس میں کوئی کردار ادا نہیں کر رہی۔’ نقل کی وجہ سےلاکھوں کا نقصان کرنے والوں میں شبانہ سی ڈی ہاوس کے افتخار احمد بھی ہیں۔ انہوں نے اپنی تازہ فلم ’رنڑا’ یعنی روشنی کی اصل اور نقل دیکھائیں تو میرے لئے بھی ان میں فرق کرنا مشکل ہوگیا۔ فلمسازوں کے مطابق یہ لاپیاں ہر جگہ تیار ہو رہی ہیں لیکن ان کے پاس اسے روکنے کے لئے کوئی قانونی حق حاصل نہیں۔ بہت سے مبصرین کے خیال میں اپنی جان پر بنی تو سی ڈیز کا کاروبار کرنے والوں کو کاپی رائٹس کا احساس ہوا۔ سی ڈی بازار نشترآباد کے صدر شیر دل خان کہتے ہیں کہ وہ بار بار حکومت سے کاپی رائٹس کے قانون کو لاگو کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں لیکن شنوائی نہیں ہو رہی۔ ان کا موقف تھا کہ اس فلمی کاروبار سے لاکھوں افراد منسلک ہیں جن کی روزی اب خطرے میں پڑ گئی ہے۔ ’اس میں چین سے سی ڈی رائٹرز لانے والے، کیمرے والے اور وہ اداکار ہیں جن کی روزی تھیٹروں پر پابندی کی وجہ سے بند ہوگئی تھی۔ یہ سب کیا کریں گے؟’ سی ڈی کے خریداروں کو تاہم اس سے سروکار نہیں کہ وہ اصل یا نقل خرید رہے ہیں۔ ایسے ہی ایک خریدار اشفاق نے بتایا کہ انہیں فلم دیکھنی ہے اور بس۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل اور نقل میں کوئی خاص فرق بھی نہیں۔ سی ڈی فلمیں تیار کرنے والوں کو بھی اب احساس ہوگیا ہے کہ ان کے مسلے کا ایک ہی حل ہے اور وہ ہے کاپی رائٹس کا قانون اور اس کی پاسداری۔ کئی فلمساز تو اب کاپی رائٹس کے حصول کے لئے چند ہزار روپے بھی لگانے کو تیار ہیں۔ اب دیکھا یہ ہے کہ کتنا جلد بازار میں کاپی رائٹس والی فلمیں ملنا شروع ہوجائے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||