فضائی سفر میں نئے باب کا اضافہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا کے سب سے بڑے مسافر طیارے اے 380 کا فرانس میں منگل کے روز افتتاح کیا گیا۔ مبصرین کے مطابق اس عظیم الشان ایئر بس اے 380 طیارے کا افتتاح ایوی ایشن کی تاریخ میں ایک نیا باب ثابت ہوگا۔ اس دیوہیکل جہاز کی لمبائی تقریباً ایک فٹ بال گروانڈ کے برابر ہے۔ اس جہاز کے پر برطانیہ میں، اندرونی حصہ جرمنی ، درمیان حصہ سپین میں اور انجن کے حصہ فرانس میں بنائے گئے ہیں۔ اس دو عرشوں والے ہوائی جہاز پانچ سو پچپن مسافروں کی گنجائش موجود ہے جو کہ اس کے امریکی مدمقابل بوئنگ 747 سے زیادہ ہے۔ یہ افتتاحی تقریب ’ڈیزائن اور انجینئرنگ‘ کی کامیابی کے دس سال مکمل ہونے کے موقع پر منعقد کی جارہی ہے۔ ایئر بس کے چیف ایگزیکٹو نوئل فورگیرڈ نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ وہ آسانی سے ڈھائی سو سے زیادہ جہاز فروخت کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اے 380جہاز بنانے کے اس منصوبہ کو منافع بخش بنانے کے لیے ڈھائی سو جہازوں کی فروخت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ وہ سات سو سے ساڑھ سات جہاز فروخت کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے کیونکہ اس جہاز کی عمر تیس سے چالیس سال تک ہے۔ صارفین کے لیے یہ مستقبل کے ہوائی سفر کی ایک جھلک ہوگی۔ دوسری جانب یہ عظیم طیارہ ایئر بس کو عوامی سفر کی دنیا میں سب سے ممتاز بنادے گا۔ طیارہ اے 380 سن 2006 سے اپنی کمرشل فلائٹس کا آغاز کرے گا اور یہ دنیا کے سب سے بڑے مسافر طیارے کے طور پر بوئنگ 747 کی جگہ لے لے گا۔ ایئر بس ادارے کا پانچواں حصہ برطانوی ادارے کی ملکیت ہے جبکہ اسی فیصد حصہ یورپ کے کنٹرول میں ہے۔ منگل کی تقریب میں دنیا کی بڑی بڑی شخصیات شریک ہوں گی جن میں برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر، فرانسیسی صدر یاک شیراک اور چانسلر گرہارڈ شروڈر شامل ہیں۔ یہ طیارہ سائز میں بہت بڑا ہے۔ ناقدین کہتے ہیں ’اس طیارے کے پروں کا پھیلاؤ ایک فٹبال گراؤنڈ جتنا ہے جبکہ اس کی لمبائی دو بلیو ویل مچھلیوں جتنی ہے اور یہ ایک ایسی مخلوق ہے جسے پہلے کسی نے نہیں دیکھا۔‘ اس طیارے کے لیے بارہ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔
|
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||