دو ہزار چار: ای میل کی جنگ کا سال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دو ہزار تین کی طرح سال دو ہزار چار میں بھی آئی ٹی یا انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں نئے انقلاب رونما ہوئے۔ اس شعبے میں کئی نئی چیزیں منظر عام پر آئیں۔ گوگل نے جی میل کے نام سے مفت ای میل سروس شروع کی تو یاہو نے اپنے ای میل استعمال کرنے والوں کو ایک سو ایم بی تک کا سپیں مفت دینے کا اعلان کیا۔ واضع رہے کہ ماضی میں مفت ای میل کی سہولیات فراہم کرنے والی کمپنیاں بالخصوص یاہو اور ہاٹ میل دونوں ہی انٹرنیٹ کا استعمال کرنے والے افراد کو دو میگا بائیٹ یا ایم بی کی جگہ دیتی تھیں۔ لیکن سرچ انجن گوگل نے تو انتہا ہی کر دی۔ اس سال اس نے پہلی مرتبہ ای میل کے شعبے میں قدم رکھا اور اپنے استعمال کرنے والوں کو دو نہیں، دو سو نہیں بلکہ ایک ہزار میگا بائیٹ سپیس دینے کا اعلان کیا۔ ظاہر ہے گوگل کی اس حکمت عملی سے یاہو اور ہاٹ میل استعمال کرنے والوں نے بھی جی میل کی جانب مائل ہونا شروع کر دیا۔ دوسری جانب دنیا بھر میں ای میل استعمال کرنے والوں کی تعداد میں بھی بے انتہا اضافہ ہوا۔ ایک جائزہ کے مطابق روزانہ اوسطًا تقریباً گیارہ ارب ای میلز بھیجے گئے جن میں چار ارب سے زیادہ سپیم میلز تھے ۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ سپیم ای میلز کی تعداد میں سال دو ہزار تین کے مقابلے میں اس سال چھ سو فیصد کا اضافہ ہوا۔ اور سپیم یا جنک ای میل سے عام صارفین ہی متاثر نہیں ہوئے بلکہ دنیا میں بل گیٹس نے کہا کہ انہیں روزانہ چالیس لاکھ جنک میل موصول ہوتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ میل کے خلاف بڑی بڑی کمپنیوں کی کوششیں بھی ناکام ثابت ہو رہی ہیں۔ پاکستان میں بھی انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ایک جائزے کے مطابق اب یہ تعداد بڑھ کر چالیس لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ پاکستان میں انفارمیشن ٹکنالوجی کے شعبے میں مجموعی طور پر پینتالیس فیصد کا اضافہ ہوا۔
اس سال بھی کثیر الملکی کمپنیوں نے اپنے کاروبار کو ہندوستان منتقل کرنے کا سلسلہ جاری رکھا اور برطانیہ اور امریکہ کی متعدد کمپنیوں نے ہندوستان میں کال سنٹرز قائم کئے۔ امریکی صدارتی انتخابات میں بھی یہ ایک اہم موضوع رہا۔ اس سال ایم ایس این نے اپنا سرچ انجن تیار کرنے کا اعلان کیا۔ جولائی میں اس نے یاہو کی مدد سے سرچ انجن لانچ تو کیا لیکن بعد میں اس نے خود اپنے بل بوتے پر سرچ انجن بنانے کا فیصلہ کیا ۔ سال دو ہزار چار میں ہی گوگل کے منتظمین نے اعلان کیا کہ وہ ہندوستان میں ایک تحقیقی مرکز کھولنے پر غور کر رہے ہیں۔ ’وال سٹریٹ جرنل‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق گوگل آئندہ سال کے اوائل میں ہندوستان میں انجینیئرنگ کا ایک تحقیقی اور ڈیولپمنٹ مرکز کھولےگا۔ یہ مرکز بھارت میں ٹیکنالوجی کے اہم شہر بنگلور میں قائم کیا جائے گا۔ سال کا اختتام اسلام آباد میں پہلی ہند پاک آئی ٹی سربراہی کانفرنس سے ہوا۔ اس کانفرنس میں ہندوستان کی چھبیس سرکردہ کمپنیوں نے حصہ لیا۔ اس کانفرنس کا اختتام دونوں ممالک کے درمیان ایک ابتدائی سمجھوتے پر دستخط سے ہوا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||