کوہ قاف: ’امن کو ماحول سےخطرہ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک بین الاقوامی ٹیم کے مطابق جنوبی کوہ قاف کے ممالک میں ماحول کے انحطاط اور قدرتی وسائل پر جھگڑوں سے کشیدگی میں اضافے کا امکان ہے۔ اقوام متحدہ اور یورپ میں سلامتی اور تعاون کے ایک ادارے کے مطابق کوہ قاف میں پڑے ہوئے پرانے ہتھیار بھی ایک مسئلہ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق علاقے کے دارالخلافوں میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور پانی کی تقسیم کی طریقۂ کار وضع کرنے کے معاملے فوری توجہ چاہتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قدرتی وسائل کی تقسیم اور ماحول کے انحطاط سے نگورنو کاراباخ، ابغازیہ، جنوبی اوسیٹیا اور آذربائجان کے نواحی علاقوں میں جھگڑا بڑھ سکتا ہے۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ علاقے میں جنگ کی وجہ سے آب پاشی کے نظام اور ڈیموں کی دیکھ بھال مشکل ہو جاتی ہے اور اقتصادی کارروائیوں کے لیے ماحول سازگار نہیں رہتا۔ اس کے علاوہ علاقے میں صفائی اور بے کار مشینری سمیت دیگر اشیا کو نمٹانے کا کام بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ رپورٹ میں آذربائجان، آرمینیا اور جارجیا کے متاثرہ علاقوں میں جن مسائل کا ذکر کیا گیا ان میں ماحولیاتی انحتاط اور قدرتی وسائل تک رسائی، مشترکہ ماحولیاتی معاملات جن میں پانی کی تقسیم، قدرتی آفات اور صنعتی اور فوجی کارروائیوں کے اثرات اور بڑھتی ہوئی آبادی شامل ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||