بھارت کا پہلا تعلیمی سیارہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت نے پہلی تعلیمی سٹیلائٹ خلاء میں چھوڑ دی ہے۔ سٹیلائٹ جس کا نام ایجوسیٹ رکھا گیا ہے سکولوں، کالجوں اور اعلی تعلیمی اداروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اس سٹیلائٹ کی وجہ سے بھارت کے ایک حصے میں کام کرنے والے اساتذہ کے لیے ملک کے دوسرے حصوں کے طالب علموں کے ساتھ رابطے کرنے کی سہولت ہو جائے گی۔ ایجوسیٹ جس کا وزن تقریبا دو ہزار کلو گرام ہے زمین سے چھتیس ہزار کلو میٹر کے فاصلے پر ہو گی جہاں سے وہ ایسے کلاس روم تیار کرے گی جن میں دور بیٹھے طالبِ علم تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔ حکام کے مطابق ایک برس کے عرصے میں اس طرح کی تقریبا ایک ہزار کلاس روم تیار کیے جائیں گے۔ حکام کے مطابق ایجوسیٹ تعلیم کے میدان میں انقلاب لے آئے گی اور تعلیم کو دور دراز اور ناقابل پہنچ کلاس روموں تک لے جائے گی۔ ایجوسیٹ کے پاس ملک کے مختلف حصوں کے لیے علیحدہ سگنل ہونگے اور ہر سگنل سو سے دو سو کلاس روموں کو آپس میں مربوط کر سکے گا۔ اس طرح کلاس روموں کا بین العلاقائی نیٹ ورک بن جائے گا۔ ایجوسیٹ کی تیاری میں ڈھائی سال کا عرصہ لگا ہے اور اس پر سترہ ملین ڈالر کی لاگت آئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||