ایران کا ایوانِ اقتدار آن لائن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اگر آپ کو یہ جاننے کا شوق ہے کہ ایران میں اقتدار کے ایوانوں کے پیچھے کیا کچھ ہوتا ہے تو اب آپ اپنا یہ شوق ایک نئی ویب سائٹ کے ذریعے پورا کر سکتے ہیں۔ ایران کے ایک نائب صدر محمد علی ابطاہی کی نئی ویب سائٹ ’ویب نوِشت ڈاٹ کام‘ ایران میں حکومت کے کاروبار کے بارے میں مفصل معلومات اور تصاویر مہیا کرتی ہے اور ہر روز اپ ڈیٹ کی جاتی ہے۔ تہران سے ہماری نامہ نگار مرِنڈا ایلز کے مطابق اس ویب سائٹ کی مقبولیت کے باوجود اس کے بانی محمد علی ابطاہی پر قدامت پسند حلقے دباؤ ڈال رہے ہیں کہ اسے بند کر دیا جائے کیونکہ ان کے مطابق یہ ایران کی مذہبی قیادت کا مذاق بنانے کے مترادف ہے۔ ویب نوِشت ڈاٹ کام پر آپ جو پہلی چیز دیکھیں گے وہ ہے محمد علی ابطاہی کا مسکراتا ہوا چہرہ جس کے نیچے یہ لکھا ہوا ہے کہ ’مجھے اپنے سرکاری عہدے کو بھول کر جیسے میں ہوں ویسے رہنے دیں۔‘ اور محمد علی ابطاہی کا سرکاری عہدہ جو نائب صدر کا ہے، زیادہ تر ایرانی عوام کے لئے بہت پراسرار اور خفیہ ہے کیونکہ ان کو ان کے کام سے متعلق بہت کم معلومات ہیں۔ لیکن اب اس ویب سائٹ کے بعد لوگوں کو یہ پتا ہے کہ ایران کے سیاسی ایوانوں میں بند دروازوں کے پیچھے کیا ہوتا ہے۔ اس ویب سائٹ پر آپ صدر محمد خاتمی کو گھر پر آرام کرتے ہوئے بھی دیکھ سکتے ہیں یا کابینہ کے ارکان کو موبائیل پر بات کرتے ہوئے یا خود مسٹر ابتاہی کو ان کے گھر والوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے۔ محمد علی ابطاہی کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ ویب سائٹ اس لئے کھولی تاکہ وہ ایسی باتیں بھی کھل کر کہہ سکیں جو وہ اپنے سرکاری عہدے کی وجہ سے نہیں کہہ پاتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران میں مذہبی قیادت اور عوام میں خلیج بڑھتا جا رہا ہے اور نوجوان بزرگوں کے مقابلے میں بہت تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔ وہ اپنی ویب سائٹ پر عام سماجی موضوعات سے لے کر سیاسی مسائل پر کھل کر بات کرتے ہیں اور اپنے مخالفین پر تنقید بھی کرتے ہیں اسی لئے ان پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اسے بند کردیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||