سائبر دلہنیں، آسان شکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شادی اور شادی کا خواب یا کسی خاص ملک کی عورت یا مرد سے شادی کی خواہش فطری بھی ہے اور دنیا کی بدلتی ہوئی اقتصادی صورتِ حال میں ضرورت بھی، انہی کمزوریوں کو سامنے رکھتے ہوئے ویب سائٹیں چلانے والے اور کاروباری طریقے سوچنے والوں نے انٹرنیٹ کے ذریعے رشتے کرنے کا کاروبار شروع کیا تھا۔ اب یہ کاروبار انتہائی بڑی شکل اختیار کر گیا ہے۔ اور بظاہر یہ خدمات فراہم کرنے والی امریکہ میں چار سو کے قریب ویب سائٹس ہیں جو بین الاقوامی سطح پر رشتے کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ انیس سو پچانوے میں جان ایڈمز نے اے ایف اے نامی ویب سائٹ لانچ کی تھی جس میں میں امریکی مردوں کو بیرونی خواتین سے متعارف کرایا تھا۔ لیکن اب اس طرح کی ہزاروں ویب سائٹس پائی جاتی ہیں۔ آج اے ایف اے کے پاس بیس ہزار سے زائد غیر شادی خواتین کی تصاویر اور تفصیلات درج ہیں۔ اس کے علاوہ انٹرنیشنل میرج آرگنائزیشن کا کاربار آج کل فروغ پا رہا ہے۔ اس ادارے سے تعلق رکھنے والے مسٹر ایڈم کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کے ذریعے خواتین ان تمام خطرات سے مخفوظ ہیں جن کا ان کو عام زندگی میں سامنا کرنا پڑتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||