سیسر کے خالق کی تلاش شروع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سیسر نامی وائرس کو، جس نے دنیا بھر میں دس لا کھ سے زیادہ کمپیوٹروں کو متاثر کیاہے، بنانے والے کی تلاش جاری ہے۔ مائیکروسوفٹ کے ایک ترجمان کے مطابق امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی کے ماہرین سیسر وائرس کے اس کوڈ کا تجزیہ کر رہے ہیں جو اکھٹے ہو کر ایک خطرناک پروگرام کی شکل اختیار کر لیتاہے۔ اس وائرس نے زیادہ ترگھروں میں استعمال ہونے کمپیوٹروں اور چھوٹے کاروبارں کو متاثر کیا ہے لیکن کچھ بڑی تنظیموں کو بھی پریشان کیا ہے۔ سیسر دوسرے سامنے آنے والے وائرسوں کے بر عکس انٹرنیٹ پر بنا کسی مدد کے خود ہی پھیل جاتا ہے۔جبکہ پہلے والے وائرس ای میل کے ذریعے پھیلتے رہے ہیں۔ یہ وائرس ان کمپیوٹروں کو اپنا نشانہ بناتا ہے جن پر ونڈوز ٹو تھاؤزنڈ یا ایکس پی ضروری سیکورٹی پیچ کے بنا کام کررہی ہوں۔ گو ونڈوز 95 اور 98 اور ایم ای والے کمپیوٹر اس وائرس سے خود متاثر نہیں ہورہے۔تاہم ان کمپیوٹروں سے بھی سیسر پھیل سکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||