BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 28 February, 2004, 13:28 GMT 18:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سِکل سیل میں چھپا خطرہ
سِکل سیل
سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ سِکل سیل کی وجہ سے بھُس یا خون کی کمی کا شکار افراد کا دوسری پیچیدگیوں کے لئے معائنہ کیا جانا چاہئیے۔

امریکی انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے محققین نے پتہ چلایا ہے کہ اس مرض میں مبتلا ایک تہائی افراد کے پھیپھڑوں میں خون کا دباؤ زیادہ تھا۔

نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ ایسے افراد کا اگر بغور معائنہ کر لیا جائے تو انہیں پھیپھڑوں کے فشارِ خون یا بلڈ پریشر میں مبتلا ہونے سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔

کیونکہ اگر بروقت پتہ چل جائے تو ایسے مریضوں کو خون کا دباؤ کم کرنے والی ادویات بروقت تجویز کی جا سکتی ہیں۔

سِکل سیل بھُس ایک موروثی مرض ہے جو جزائرِغرب الہند اور ایشیائی افراد میں پایا جاتا ہے۔ اس نقص کے سبب خون کے سرخ ذرات کی، جو آکسیجن بردار ہوتے ہیں، شکل بگڑ جاتی ہے۔

یہ خلیے آپس میں جڑ کر خون کی باریک نالیوں میں خون کی گردش میں رکاوٹ پیدا کر دیتے ہیں۔ اور اس طرح متعلقہ عضو تک آکسیجن کی فراہمی رک جاتی ہے جس کے نتیجہ میں یہ عضو متاثر ہوجاتا ہے۔

محققین نے اس معائنہ کے لئے ڈوپلر ایکوکارڈیوگرافی کا طریقہ استعمال کیا جس میں خون کے بہاؤ کی رفتار جانچنے کے لئے آواز کی لہروں سے مدد لی جاتی ہے۔

ڈاکٹر گریفن راجرز کا جنہوں نے اس تحقیق میں حصہ لیا کہنا ہے کہ یہ ٹیسٹ زیادہ مہنگا نہیں ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد