| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
خود کشی کا صحیح طریقہ
انٹر نیٹ جہاں کائناتی معلومات کا ایک خزانہ ہے وہیں بعض اوقات عوام کے لئے سوہانِ روح بھی بن جاتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل انٹر نیٹ پر فحش مواد اور عریاں تصاویر کے تنازعے نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کی تھی اور اب خود کشی کے طریقے شائع کرنے کا مسئلہ گرما گرم بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ یہ قصّہ اٹھائیس مئی دو ہزار دو کو اس وقت شروع ہوا جب انگلستان اور سکاٹ لینڈ کے دو افراد نے آپس میں ایک ’نیوز گروپ‘ کے توسط سے رابطہ کیا اور خود کشی میں سہولت مُہّیا کرنے کا پیمان کیا۔ اگلے روز دونوں افراد ساحلی چٹانوں پر چڑھے اور ایک نے کود کر اپنی جان دےدی۔ اس واقعے کے بعد کچھ ماہرین نے انٹر نیٹ پر تحقیق کی تو پتہ چلا کہ ایسی کئی سائٹیں موجود ہیں جن پر خودکشی کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ مزید تحقیق پر ماہرین کی رسائی ایک ایسے شخص تک ہوئی جو ’بوبوروشی‘ کے نام سے انٹر نیٹ پر خود کشی کے حق میں مضامین شائع کرتا ہے اور اپنی جان لینے کے مختلف طریقوں پر لوگوں کے سوالوں کے جواب بھی دیتا ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی میں شعبہِ نفسیات کے پروفیسر مارک ولیمز کا کہنا ہے کہ ’بوبوروشی‘ جیسے افراد ذہنی مریض ہیں لیکن ان کی کارروائیوں پر پابندی لگانا اس لئے مشکل ہے کہ انٹر نیٹ کی دنیا میں سارا کام گمنامی کے پردے میں رہ کر کیا جاتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||