| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
بیٹا یا بیٹی اختیار والدین کو نہیں
برطانیہ میں ایک طبی اتھارٹی نے والدین کو اپنے ہونے والے بچوں کی صنف کا انتخاب کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ ہیومن فرٹیلازیشن اور ایمبریالوجی اتھارٹی (ایچ ایف آئی اے) نے کہا ہے کہ اس ضمن میں جو ضابطے اس وقت لاگو ہیں وہ برقرار رہیں گے۔ ان ضابطوں کے مطابق صرف طبی وجوہات کی بنیاد پر والدین کو یہ اختیار دیا جا سکتاہے کہ وہ اپنے پیدا ہونے والے بچے کی صنف کا انتخاب کر سکیں۔ یہ فیصلہ عوام کے ساتھ ایک سال طویل مشاورت کے بعد کیا گیا ہے جس میں اسی فیصد لوگوں کا یہی خیال تھا کہ بچوں کی صنف کا انتخاب کرنے کا اختیار والدین کو نہیں دیا جانا چاہئے۔ برطانیہ کے والدین میں اپنی مرضی سے لڑکا یا لڑکی پیدا کرنے کے لیے ملک سے باہر سفر کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کی بنا پر وزراء نے ایچ ایف آئی اے کو عوام سے رجوع کرنے کے لیے کہا تھا۔ گزشتہ سال امریکی ہسپتالوں نے اطلاع دی تھی کہ انہوں نے چھ برطانوی والدین کو اپنی مرضی سے لڑکا یا لڑکی پیدا کرنے میں مدد کی تھی۔ ان سب نے صنف کا انتخاب کرنے کا فیصلہ اپنے گھر میں بیٹے یا بیٹی کی خواہش میں کیا تھا۔ ایک عورت کے پانچ بیٹے تھے اسے بیٹی کی خواہش تھی۔ بچوں کی صنف کا تعین یا تو جینیاتی تـجزیے سے کیا جا سکتا ہے یا پھر اس کے لیے مطلوبہ جرثوموں کے انتخاب کا طریقہ استعمال کیا جاتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||