| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
خلائی مشن: چینی حکام کی تشویش
چینی حکام نے اعلان کیا ہے کہ چین کے پہلے انسان بردار خلائی مشن کی روانگی براہِ راست نشر نہیں کی جائے گی۔ چینی حکام کے مطابق یہ خلائی مشن پندرہ اور سترہ اکتوبر کے درمیانی عرصے میں روانہ کیا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ’شن ژاؤ فائیو‘ نامی خلائی جہاز کی پرواز اس کی اصل روانگی کے کچھ دیر بعد دکھائی جائے گی۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ چینی حکام کو یہ خدشات لاحق ہیں کہ اگر یہ مشن ناکام ہوگیا تو عوامی سطح پر اس بارے میں شدید مایوسی ہوگی اور چین کا خلائی پروگرام بھی تنقید کی زد میں آئے گا۔ اگر چین نے یہ مشن کامیابی کے ساتھ خلاء میں بھیج دیا تو یہ وہ تیسرا ملک ہوگا جو انسان پردار خلائی جہاز خلاء میں بھیجے گا۔ اس سے قبل امریکہ اور روس اپنے خلابازوں کو خلاء میں بھیج چکے ہیں۔ چین کے ایک روزنامے کے مطابق نشریات براہِ راست نہ دکھانے کے فیصلے سے حکام کی پریشانی کی عکاسی ہوتی ہے۔ روزنامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ خلائی ماہرین کے مشورے پر کیا گیا ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ اس مشن پر کسے روانہ کیا جا ریا ہے۔ چین کے تین خلابازوں نے اس سلسلے میں آزمائشی امتحان پاس کیا ہے اور ان تینوں میں سے ایک کو اس مشن پر بھیجا جائے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||