| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’بِگ بینگ‘ کی نقل
سائنسدان ایسے آلات اور ایک ایسا سائنسی نظام بنانے میں مصروف ہیں جس میں ذرے کو انتہائی تیزی سے حرکت دی جا سکے گی۔ اس کاوش کا مقصد ’بِگ بینگ‘ نامی نظریے کی عملی نقل تیار کرنا ہے۔ بِگ بینگ نظریے کے مطابق کائنات دو ستاروں کے ٹکرا جانے سے وجود میں آئی تھی۔ یہ سائنسی آلہ سن دو ہزار سات تک مکمل ہو جائے گا اور اس کا پہلا تجربہ سوئٹزرلینڈ کے کسی دیہی علاقے میں کیا جائے گا۔ تجربہ کے دوران اس آلے میں ذرات کو تیز رفتار سے چھوڑا جائے گا اور ایک برس کے اندر جمع ہونے والے اعداد و شمار کی تعداد اس قدر زیادہ ہو گی کہ انہیں یکجا کرنے کے لیے آئفل ٹاور جتنا اونچا سی۔ڈی کا ڈھیر درکار ہو گا۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ دنیا بھر کے سائنسدان اور محققین کس طرح ان اعداد و شمار کو حاصل کریں گے۔ یہ کام انجام دینے کے لیے سُپر کمپیوٹرز کا ایک بین الاقوامی نیٹ ورک تیار کیا گیا ہے جس کو گرِڈ کا نام دیا گیا ہے۔
اب تک گرِڈ نامی یہ نظام دنیا کے مختلف مقامات میں موجود کمپیوٹر کے ایئرکنڈیشنڈ خصوصی مراکز کے درمیان رابطہ قائم کر کے سُپر کمپیٹر کے ایک بہت بڑے نظام کی شکل میں تشکیل دیا گیا ہے۔ سائنسدان اب بھی اپنے کمپیوٹروں سے محدود مدد ہی حاصل کر پاتے ہی لیکن جب گرِڈ پوری طرح اپنا کام شروع کرے گا تو دنیا کا کوئی بھی شخص اس عالمگیر کمپیوٹر کی طاقت اور صلاحیت سے باآسانی مستفید ہو پائے گا۔ ذرات پر تجربات سے متعلق سرن نامی ایک یورپی تجربہ گا ہ کے ایک سربراہ ولفگینگ وون روڈن کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کا اہم ترین فائدہ یہ ہو گا کہ اگر کوئی سائنسدان کسی چھوٹے سے تحقیقی مرکز یا دور دراز علاقے سے کسی موضوع پر بہت زیادہ معلومات حاصل کرنا چاہے گا تو وہ اپنے ذاتی کمپیوٹر کے ذریعے دنیا بھر کے کمپیوٹروں سے ایک ہی وقت میں رابطہ قائم کر کے تمام تر تفصیلات حاصل کر سکے گا۔ سرن کی تکمیل کے بعد ’بِگ بینگ‘ نامی نظریے کا تجربہ زیرِ زمین کیا جائے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||