| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی حکومت کی ویب سائٹ پردھاوا
بھارت میں انٹرنیٹ کے ہزاروں صارفین نے ایک سرکاری ویب سائٹ پر دھاوا بول دیا ہے اور مطالبہ کررہے ہیں کہ ’یاہو‘ کے ایک ’ڈسکشن گروپ‘ پر عائد کی جانے والی پابندی اٹھائی جائے۔ اس پابندی کے نتیجے میں انٹرنیٹ کے اس بڑے ادارے کی جانب سے بھارت بھر میں ہر قسم کی ’ڈسکشن‘ (یا بحث و مباحثہ) بند ہوگیا ہے جس کی وجہ سے ملک بھر میں انٹرنیٹ صارفین کو دشواری اور پریشانی کا سامنا ہے۔ بھارتی حکومت نے یہ پابندی اس اندیشے کی بنا پر عائد کی تھی اس ’ڈسکشن گروپ‘ کا ’کن ہن فورم‘ کالعدم علیحدگی پسندوں سے متعلق ہے۔ جب ’یاہو‘ نے بھارت کی جانب سے پابندی کے مطالبے کو تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا تو بھارتی حکومت نے اس پابندی کے نفاذ کے لئے کمپیوٹر سے متعلق جدید قوانین کا سہارا لے کر بھارت میں انٹرنیٹ سروس پرووائیڈر (آئی ایس پی۔ یا انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرنے والا ادارہ) کو اس حکم کی بجا آوری پر مجبور کیا تھا۔ حکومت کا موقف ہے کہ ’کن ہن فورم‘ کا تعلق شمال مشرقی بھارت کی ریاست میگھالے کے ایک چھوٹے سے کالعدم علیحدگی پسند گروپ ’ہن نیو ٹریپ نیشنل لبریشن کونسل‘ سے ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ ’ڈسکشن گروپ‘ بھارتی حکومت اور میگھالے کی ریاستی حکومتوں کے خلاف پرچار کررہا ہے۔ اس پابندی کا حکم بھارتی حکومت کی کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (سیرٹ۔ ان یا سی ای آر ٹی۔ آئی این) نے دیا تھا جو فحش یا قومی مفادات کے منافی ویب سائیٹس کو ’بلاک‘ (کمپیوٹر کی زبان میں پابندی عائد کرنے کے لئے استعمال ہونے والی اصطلاح) کرنے کی مجاز ہے۔ جدید کمپیوٹر قوانین (آئی ٹی ایکٹ) کے تحت بھارت میں انٹرنیٹ سروسز پرووائیڈرز (آئی ایس پی۔ یا انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرنے والا ادارے) کمپیوٹر پر حاصل کئے جاسکنے والے مواد یا اس تک رسائی کے ذمہ دار ہیں۔ چونکہ بھارت میں انٹرنیٹ سروسز پرووائیڈرز کو کسی چھوٹے گروپ کے ’ڈسکشن‘ پر پابندی لگانے کے لئے تکنیکی سہولت حاصل نہیں اس لئے ’کن ہن‘ کے ’آئی پی ایڈریس‘ ہی کو بلاک کردیا جس کے نتیجے میں ’یاہو‘ کے تمام ’ڈسکشن گروپس‘ بھی اس پابندی کی زد میں آگئے۔ اب بھارت بھر میں انٹرنیٹ کے ہزاروں صارفین نے سی ای آر ٹی ۔ آئی این کی ویب سائیٹ پر دھاوا بول دیا ہے اور مطالبہ کررہے ہیں کہ اس پابندی کو ختم کیا جائے۔ انٹرنیٹ پر اس قسم کی پابندیوں سے متعلق ایک ادارے گلوبل میڈیا واچ ڈاگ رپورٹر ودآؤٹ بارڈر کا کہنا ہے کہ پابندی عائد کئے جانے کا یہ معاملہ انٹرنیٹ سینسرشپ کا خطرے کی نشاندہی کرتا ہے۔ ادارے کی سیکریٹری جنرل رابرٹ مینارڈ کا کہنا ہے ’اس طرح چند صفحات پر عائد کی جانے والی اس پابندی کی زد میں دیگر ہزاروں ویب صفحات بھی آجاتے ہیں جن کا اس مواد سے قطعاً کوئی تعلق نہیں ہوتا جس کی بنا پر کسی ویب صفحے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے بارے میں ہمیں بہت چوکنا رہنا چاہیے۔‘ بھارت میں کمپیوٹر قوانین کے ماہر پون دگال کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس معاملے میں ایک انتہائی کمزور قانونی سہارا حاصل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اگرچہ حکومت کو پابندیاں عائد کرنے کے جو حقوق پہلے سے ہی حاصل ہیں ان سے تو انکار نہیں کیا جاسکتا مگر جو طریقہ حکومت نے اختیار کیا ہے وہ مکمل طور پر غیر قانونی ہے اور اگر اس طریقے کو کسی بھی عدالت میں گھسیٹ لیا جائے تو اس کی دھجیاں اڑ سکتی ہیں۔‘ اس پابندی کی وجہ سے ’یاہو‘ کے دیگر ’ڈسکشن گروپس‘ بھی ’بلاک‘ ہوگئے ہیں۔ ویوک سولے، کا تعلق بھارت کے مرکزی قصبے اندور سے ہے اور ’یاہو ڈاٹ گروپس ڈاٹ کام‘ کے صارفین کی ایک فہرست مرتب کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’میں ہر مہینے ایک نیوز لیٹر (معلوماتی جریدہ) شائع کرتا ہوں جو دنیا بھر کے تقریباً ایک ہزار صارفین میں مفت تقسیم کیا جاتا ہے ۔ اچانک مجھے معلوم ہوا کے مجھے اپنے صارفین کی معلومات رکھنے والے مواد تک رسائی ہی حاصل نہیں رہی۔ محض ایک گروپ پر پابندی کی وجہ سے کئی تعلیمی اور معلوماتی گروپس بھی اس پابندی کی زد میں آگئے ہیں۔‘ نوین رولینڈ کی ایک آٹھ سالہ بیٹی ’یاہو‘ کے ایک گروپ کی رکن ہے جس کے تحت وہ اپنے اہل خانہ اور دوستوں کے ہمراہ بیرون ملک کئے جانے والے سفر کی تصاویر اور دیگر معلومات تک رسائی حاصل کرتی ہے۔ اب اس سائٹ کے بلاک ہوجانے کی وجہ سہ وہ آٹھ سالہ بچی بھی اپنے گروپ تک رسائی سے محروم ہے۔ نوین رولینڈ کا کہنا ہے ’مجھے تو سمجھ ہی میں نہیں آتا کہ دہشت گرد آخر ہے کون۔۔۔ میری آٹھ سالے بیٹی جو یاہو گروپ کے ذریعے اپنی تصاویر تک رسائی حاصل کرتی ہے یا مسخروں کا وہ گروہ دہشت گرد ہے جو خود کو سیاستداں یا سرکاری افسر کہتا ہے۔‘ ’حکومت کو یہ پابندی فوراً اٹھالینی چاہیے اس سے قبل کہ یہ بھارت کے ایک آزاد ملک ہونے کے تاثر کو تباہ و برباد کردے۔‘ بعض دیگر صارفین کا کہنا ہے کہ ’کن ہن‘ کے صارفین کی تعداد بیس سے زائد ہرگز نہیں ہے۔ ون دگال کا کہنا ہے کہ ’جبکہ کشمیریوں کی کم از کم دو سو سے زائد ویب سائیٹس ہیں جو اس کہیں زیادہ خطرناک مواد کی حامل ہیں۔ معلوم نہیں کیوں حکومت نے یہ پابندی نافذ کرکے اپنے لئے خود ایک مصیبت مول لے لی ہے۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||