| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
وائرس کا ملزم گرفتار
امریکی ریاست مینیسوٹا کے اٹھارہ سالہ جیفری لی پارسن پر الزام ہے کہ انہوں ’ایم ایس بلاسٹ ورم‘ وائرس کی ایک قسم اپنے کمیوٹر سے جاری کی تھی۔ جیفری لی پارسن پر یہ وائرس تخلیق کرنے کی نہیں بلکہ اس کی ایک قسم پھیلانے کا الزام ہے۔ اس خطرناک وائرس سے پوری دنیا کے کمپیوٹر اور کمپوٹر سسٹم متاثر ہوئے تھے۔ انسداد کمپیوٹر وائرس کی کمپنی سیمانٹیک کے اندازے کے مطابق اس وائرس سے پچاس ہزار سے زیادہ کمپوٹر متاثر ہوئے تھے۔ ہانگ کانگ کے سرکاری دافتر، کینیڈا کی ہوائی کمپنی ’ائیر کینیڈا‘ اور امریکی ریاست میری لینڈ کی موٹر وہیکل ایڈمنسٹریشن ان بڑے اداروں میں شامل ہیں جنہوں نے اس وائرس نے بہت بری طرح متاثر کیا تھا۔ اگر جیفری لی پارسن کو مجرم پایا گیا تو ان کو ڈھائی لاکھ ڈالرجرمانہ اور دس سال قید تک کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔ جیفری لی پارسن کو حکام نے گھر پر نظر بند رکھا ہوا ہے لیکن ان کواسکول اور ڈاکٹر تک آنے جانی کی اجازت ہے۔ تاہم ان کے انٹرنیٹ استعمال کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور حکام نے ان کے تمام کمپیوٹر ضبط کر لئے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |