’سیلفی کے لیے ڈولفن کو سمندر سے نکال لیا‘

فرانسسکانا نامی ڈولفن کی یہ قسم دنیا میں بہت تیزی سے ختم ہوتی جارہی ہے

،تصویر کا ذریعہTwitter

،تصویر کا کیپشنفرانسسکانا نامی ڈولفن کی یہ قسم دنیا میں بہت تیزی سے ختم ہوتی جارہی ہے

لاطینی امریکہ کے ملک ارجنٹینا میں ساحل سمندر پر جانے والے ان افراد پر سخت نکتہ چینی کی جاری ہے جنھوں نے ناپید ہونے والی نسل کی ایک ڈولفن کے ساتھ سیلفی لینے کے لیے اسے سمندر سے باہر نکال لیا۔

سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی تصاویر میں سانتا تریستا کے شہر کے ساحل پر لوگوں کی بھیڑ کو ایک ڈولفن کو ہاتھ میں پکڑے اور اسے چھوتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

ان تصاویر کو دیکھ کر وائلڈ لائف کے ماہرین اور سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں نے اس پر ناراضگی کا اظہار شروع کر دیا۔

فرانسسکانا نامی ڈولفن کی یہ قسم دنیا میں بہت تیزی سے ختم ہوتی جارہی ہے اور اس کے تحفظ کے لیے مہم چلانے والوں کا کہنا ہے اب وہ صرف 30,000 ہی باقی بچی ہیں۔

جنگلی حیاتیات سے وابستہ ارجینٹنا کی ایک غیر سرکاری تنظیم کا کہنا ہے کہ ساحل سمندر پر جانے والوں کو دو ڈولفن ملی تھیں جس میں سے ایک مردہ تھی۔

،تصویر کا ذریعہPedro Narra naturepl.com

ایک ویڈیو میں ایک شخص کو سمندر سے ڈولفن کو اٹھاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جو اسے لے کر ادھر ادر پھر رہا ہے۔

فیس بک پر بھی اسی طرح کی تصویریں پوسٹ کی گئی ہیں جس میں لوگ اسے چھو رہے یا اور اس کے ساتھ اپنی فوٹو کھنچوا رہے ہیں۔

یہ بات واضخ نہیں ہے کہ آیا یہ ڈولفن زندہ تھی یا مردہ یا پھر یہ تصویریں اسی ڈولفن کی ہیں۔

یہ ڈولفن ہجم کے اعتبار سے دنیا کی سب سے چھوٹی ڈولفن ہوتی ہے اور یہ صرف ارجنٹینا، برازیل اور یوراگوئے میں ہی پائی جاتی ہے۔

اس واقعے کے بعد اس سے متعلق ایک تنظیم نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ اگر کبھی کو ڈولفن کہیں پھنسی ہوئی ملے تو لوگ اس کی مدد کر کے اسے پانی میں چھوڑ دیا کریں۔