ایک سال تک انٹرنیٹ کے استعمال کا ریکارڈ رکھنے کی تجویز

،تصویر کا ذریعہReuters
نگرانی کے نئے مجوزہ قوانین کے تحت برطانیہ میں انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو ایک سال تک ان ویب سائٹوں کا ریکارڈ رکھنا ہو گا جن تک ان کے صارف رسائی حاصل کرتے ہیں۔
نئے قوانین کے تحت اگر پولیس اور سکیورٹی کے ادارے اگر اس مواد تک رسائی چاہیں تو انھیں اس کے لیے اب اپنے اعلیٰ افسران سے اجازت لینا ہو گی۔
برطانوی ہوم سیکریٹری ٹریزا مے کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اس قسم کی قانون سازی ضروری ہے تاہم اس امر کو یقینی بنایا جائے گا کہ ان کا غلط استعمال نہ ہو۔
انویسٹیگیٹری پاورز بل کا مسودہ جلد ہی شائع کیا جانے والا ہے۔
برطانیہ کی حکومت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہر فرد کی انٹرنیٹ براؤزنگ ہسٹری تک براہِ راست اور مکمل رسائی دینے کا منصوبہ اس خیال کے تحت رد کر دیا ہے کہ اس کی پارلیمان سے منظوری ممکن نہیں ہو گی۔
برطانوی اخبار دا ٹائمز کے مطابق حکومت ججوں کو یہ اختیار بھی دینے والی ہے کہ وہ جاسوسی کی ایسی کارروائیوں کو بھی روک سکیں گے جن کی اجازت چاہے ہوم سیکریٹری نے ہی کیوں نہ دی ہو۔

خیال رہے کہ فی الوقت سکیورٹی سروسز ہوم سیکریٹری اور دیگر سینیئر وزرا کی اجازت سے ہی مشتبہ دہشت گردوں اور مجرموں کے کمپیوٹر ہیک کرتی ہیں اور گذشتہ برس ایسے 2700 وارنٹس جاری کیے گئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نئے نظام کے تحت دس یا اس سے زیادہ ججوں کا ایک پینل ان وارنٹوں کا جائزہ لے سکے گا اور ضرورت پڑنے پر نگرانی کی اجازت کو منسوخ بھی کر سکے گا۔
برطانوی وزیرِاعظم کا کہنا ہے کہ یہ مسودۂ قانون اس پارلیمان میں پیش کیے جانے والے اہم ترین قوانین میں سے ایک ہو گا۔
برطانوی وزیرِ داخلہ ٹریزا مے ایک عرصے سے پولیس اور سکیورٹی اداروں کو آن لائن ڈیٹا تک رسائی کے اختیارات دینے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں اور ان کا موقف ہے کہ کچھ ویب سائٹیں مجرموں اور دہشت گردوں کی ’محفوظ پناہ گاہیں‘ بن چکی ہیں۔
اس نئے قانون کی منظوری کی صورت میں برطانوی انٹرنیٹ کمپینوں پر لازم ہو گا کہ وہ 12 ماہ تک ان ویب سائٹوں کے ڈومین ایڈریس کا ریکارڈ رکھیں جن تک ان کے صارفین نے رسائی پائی تھی۔
اس ڈیٹا تک رسائی کے لیے پولیس اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں کو اپنے اعلیٰ افسران سے اجازت درکار ہو گی لیکن اگر وہ صارف کی براؤزنگ ہسٹری یا ای میلز تک رسائی چاہیں گے تو اس کے لیے ہوم سیکریٹری کی اجازت درکار ہو گی۔
حزبِ اختلاف کی جماعتوں، شہری حقوق کے لیے مہم چلانے والوں اور کچھ حکومتی ارکانِ پارلیمان نے بھی حکومت نے ان منصوبوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔







