سستے مصنوعی ہاتھ کے لیے جیمز ڈائسن ایوارڈ

اوپن بائیونک ہاتھ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشناوپن بائیونک ہاتھ سستا اور تیزی سے بنایا جا سکتا ہے

تھری ڈی پرنٹڈ روبوٹک ہاتھ کا نمونہ جسے تیزی اور زیادہ سستے طریقے سے بنایا جا سکتا ہے برطانیہ میں اس سال کے جیمز ڈائسن ایوارڈ کا حقدار ٹھہرا ہے۔

اس کے تخلیق کار اوپن بائیونکس پراجیکٹ کے جوئل گبرڈ نے کہا ہے کہ وہ دو دن سے بھی کم وقت میں ایک معذور کا ہاتھ تھری ڈی کے ذریعے سکین کر کے اسے دوبارہ بنا کے لگا سکتے ہیں۔

عام طور پر اس طرح کی چیزیں حاصل کرنے کے لیے دو ہفتے یا مہینہ لگتا ہے۔

جوئل گبرڈ کا کہنا ہے کہ مصنوعی ہاتھ کی اگلے سال سے فروخت شروع کر دیں گے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ہمارے پاس ایک ایسا آلہ ہے جو قیمت میں تو نچلی لیکن فعالیت میں اوپری سطح پر ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ بہت ہی ہلکے وزن کا ہے اور اسے ہر انسان کی ضرورت کے مطابق بنایا جا سکتا ہے۔

’ہاتھ دراصل ایک ڈھانچہ ہے جس پر جلد چڑھی ہوئی ہے۔ سو ہم جلد کے ساتھ مختلف کام کر سکتے ہیں۔ ہم اس پر نمونے بنا سکتے ہیں، ہم اس کا سٹائل اور ڈیزائن بدل سکتے ہیں۔ یہاں بہت زیادہ لچک ہے۔‘

’ہاتھ دراصل ایک ڈھانچہ ہے جس پر جلد چڑھی ہوئی ہے۔ سو ہم جلد کے ساتھ مختلف کام کر سکتے ہیں۔ ہم اس پر نمونے بنا سکتے ہیں، ہم اس کا سٹائل اور ڈیزائن بدل سکتے ہیں۔ یہاں بہت زیادہ لچک ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشن’ہاتھ دراصل ایک ڈھانچہ ہے جس پر جلد چڑھی ہوئی ہے۔ سو ہم جلد کے ساتھ مختلف کام کر سکتے ہیں۔ ہم اس پر نمونے بنا سکتے ہیں، ہم اس کا سٹائل اور ڈیزائن بدل سکتے ہیں۔ یہاں بہت زیادہ لچک ہے۔‘

پچیس سالہ موجد گاہکوں کو یہ آلہ 2,000 پاؤنڈ میں بیچنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس میں فٹنگ بھی شامل ہے۔

اگرچہ مصنوعی بازو جن میں ہک لگی ہوتی ہے اتنے ہی قیمت کے ملتے ہیں لیکن انگلیوں کو کنٹرول کرنے والے ہاتھ عام طور پر 20,000 سے 60,000 پاؤنڈ کے درمیان فروخت ہوتے ہیں۔

اس کی لاگت میں کبھی کبھار کمی بھی لائی جاتی ہے اور وہ بھی بچوں کے لیے جنھیں اپنی نشوونما کے حوالے سے ہر سال یا سال میں دو مرتبہ مصنوعی بازو بدلنا پڑتا ہے۔

برطانیہ کا انجینیئرنگ کا انعام 2,220 پاؤنڈ پر مشتمل ہے اور اس بات کا موقع بھی فراہم کرتا ہے کہ انعام حاصل کرنے والا بین الاقوامی انعام کے مقابلے میں بھی حصہ لے جو کہ تقریباً 28,600 پاؤنڈ یا 45,000 ڈالر ہے۔

لیکن شاید اس سے بھی گراں قدر بات یہ ہے کہ اس سے پراجیکٹ کو بڑے پیمانے پر پذیرائی ملے گی۔

برٹش فاؤنڈیشن فار انٹرنیشنل ریکنسٹرکٹیو سرجری اینڈ ٹریننگ کی مس باربرا جیمک کہتی ہیں کہ جوئل گبرڈ کو اس بات پر مبارکباد دینی چاہیے کہ انھوں نے فعال مصنوعی اعضا کے آلات کی سستی قیمتوں پر دستیابی کو آگے بڑھایا ہے۔

’معذور افراد کو، خصوصاً ترقی پذیر ممالک جیسے سیرالیون جہاں خانہ جنگی کی وجہ سے کئی لوگ اعضا سے معذور ہیں، سستے اور پائیدار مصنوعی اعضا کی ضرورت ہے۔‘

’کام کرنے والا ہاتھ بھوک اور کام کرنے کے قابل ہونے اور آپ کے اور آپ کے خاندان کی دیکھ بھال کرنے کے درمیان سارا فرق لا سکتا ہے۔‘