بےوفاؤں کے نام لیک کر دیے گئے

،تصویر کا ذریعہAP
ایک رپورٹ کے مطابق ڈیٹنگ ویب سائیٹ ’ایشلی میڈیسن‘ کے صارفین کی چوری ہونے والی معلومات شائع کر دی گئی ہیں۔ یہ ویب سائٹ شادی شدہ افراد کے لیے غیر ازدواجی تعلقات استوار کرنے کی سہولت مہیا کرتی ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ معلومات ’ڈارک ویب‘ پر شائع کی گئی ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ ان معلومات تک رسائی صرف اِنکرپٹڈ براؤزرز کے زریعے ہی ممکن ہے۔
بی بی سی کی رسائی چوری شدہ مواد تک ممکن نہیں ہو سکی جس کی وجہ سے وہ اس کی تصدیق نہیں کر سکتے۔
ہیکروں نے گذشتہ ماہ یہ معلومات چوری کی تھیں اور دھمکی دی تھی کہ اگر اِس ڈیٹنگ ویب سائٹ کو بند نہ کیا گیا تو وہ اس معلومات کو سب پر ظاہر کر دیں گے۔
تیکنیکی ویب سائٹ ’وائرڈ‘ کا کہنا ہے کہ 9.7 گیگا بائٹ چوری شدہ معلومات شائع کی گئی ہیں۔ شائع شدہ معلومات میں ویب سائٹ کے ممبران کے اکاؤنٹ اور اُن کے کریڈٹ کارڈوں کی تفصیلات شامل ہیں۔
خود کو ’اِمپیکٹ ٹیم‘ کہلوانے والے ہیکروں کا کہنا ہے کہ انھوں نے ویب سائٹ کے صارفین کے اصلی نام اور پتے حاصل کر لیے ہیں، اور اُن صارفین کے ڈیٹا تک بھی رسائی حاصل کر لی ہے جو ماضی میں اپنے اکاؤنٹ کی معلومات ’ڈیلیٹ‘ کرنے کے لیے ویب سائٹ کو ادائیگی کر چکے ہیں۔
اِس سے پہلے جولائی میں بھی معلومات کا ایک چھوٹا سا حصہ شائع کیا جا چکا ہے۔
ایشلی میڈیسن چلانے والی کینیڈین کمپنی ’ایوِڈ لائف میڈیا‘ کا اپنے ایک بیان میں کہنا ہے کہ انھیں ’اب پتہ چلا ہے کہ معلومات چوری کرنے والے انفرادی شخص یا گروہ نے چوری شدہ ڈیٹا شائع کرنے کا دعوٰی کیا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کمپنی نے معلومات کی چوری کو ’ایک مجرمانہ اقدام‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہیکروں کو پکڑوانے کے لیے ان کی کمپنی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اس فعل کے ذمہ دار فرد یا افراد نے خود ہی اپنے آپ کو اخلاقی جج، جیوری اور سزا دینے والے کا رتبہ دے دیا ہے۔ یہ لوگ پورے معاشرے کو اپنے نظریے کے تابع دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم خاموش بیٹھ کر ان چوروں کو اپنا نظریہ پوری دنیا پر مسلّط کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔‘
ایشلی میڈیسن کے مطابق اُن کی ویب سائٹ 50 سے زائد ممالک میں استعمال کی جاتی ہے اور ان کے صارفین کی تعداد کروڑ 70 لاکھ سے زائد ہے۔ دس لاکھ سے زائد صارفین کا تعلق برطانیہ سے ہے۔
یہ ویب سائٹ لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے ’ زندگی مختصر ہے، مراسم بڑھائیں‘ جیسے اشتہاری الفاظ کا استعمال کرتی ہے۔







