جنگلی حیات کے غیرقانونی شکار کی روک تھام پر عالمی کانفرنس

،تصویر کا ذریعہAFP
جنگلی جانوروں کے غیرقانونی شکار کی روک تھام کے لیے پانچ روزہ عالمی کانفرنس پیر سے نیپال میں شروع ہو رہی ہے۔
اس کانفرنس کا اہتمام نیپال کی حکومت اور جنگی حیات کے تحفظ کی عالمی تنظیم ورلڈ وائلڈ فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) نے مشترکہ طور پر کیا ہے۔
اس کانفرنس میں دنیا کے 13 ممالک کے حکام شریک ہو رہے ہیں جو غیرقانونی طریقے سے کیے جانے والے شکار کے خاتمے کی کوششوں پر بحث کریں گے۔
اس خطے میں جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے کارکن شیر، گینڈے، ہاتھی اور برفانی تیندوے کی نسل کو شکاریوں سے بچانے کے لیے کوشاں ہیں۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ماہر مائیک بالزر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اس خطے میں شیروں کے تحفظ کے لیے نیپال اور بھارت سب سے آگے ہیں۔ جہاں بھارت میں شیروں کی تعداد بڑھی ہے وہیں نیپال میں ایک بھی شیر کا غیرقانونی شکار نہیں ہوا۔‘
نیپال میں گذشتہ تین برس میں صرف ایک جانور کا غیرقانونی طور پر شکار کیا گیا ہے جو کہ ایک گینڈا تھا، جبکہ یہاں شیروں کی تعداد میں 2009 سے 2013 کے دوران دو تہائی اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
اس کے علاوہ بھارت نے حال ہی میں سنہ 2010 سے اب تک ملک میں <link type="page"><caption> شیروں کی آبادی میں 30 فیصد اضافے کی خبر</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/regional/2015/01/150120_india_tiger_increase_sq.shtml" platform="highweb"/></link> دی ہے۔
انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر کا کہنا ہے کہ دہائیوں تک جاری رہنے والے غیرقانونی شکار اور جنگلوں کی کٹائی کی وجہ سے دنیا بھر میں شیروں کی آبادی، جو ایک صدی قبل ایک لاکھ تھی، کم ہو کر اندازاً تین ہزار رہ گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نیپال کے قومی پارکس کے شعبے کے ڈائریکٹر جنرل تکا رام ادھیکاری نے اے ایف پی کو بتایا کہ عوام کو شیروں کے تحفظ کی مہم میں شامل کرنے کے بہترین نتائج سامنے آئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پہلے جنگلات کے قریب رہنے والے دیہاتی شیروں کے آبادی پر حملوں کے خطرے کی وجہ سے ان کے غیرقانونی شکاریوں کو تحفظ دیتے تھے۔
’ہم نے ان کے مسائل سنے، ان کے دیہاتوں کے گرد برقی باڑ لگوائی۔ سیاحت کے شعبے پر توجہ مرکوز کی اور اس سے ہونے والی آمدن میں دیہاتیوں کو شریک بنایا۔‘
ادھیکاری کے مطابق: ’اب دیہاتی خود شیروں کی حفاظت کرتے ہیں اور ہماری مدد کرنا چاہتے ہیں۔ان جانوروں کا تحفظ اب ان کی انا کا معاملہ بن چکا ہے۔‘







