ٹوئٹر کے ملازمین کی اکثریت ’مرد اور سفید فام‘

،تصویر کا ذریعہ
مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر میں کام کرنے والے ملازمین میں ’گوروں‘ اور مردوں کی تعداد زیادہ ہے۔
ٹوئٹر نے اپنے ملازمین کی جنس اور نسل کے اعتبار سے تقسیم کے حوالے سے ایک رپورٹ جاری کی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق اس کے ملازمین میں تقریبا 70 فیصد مرد ہیں۔
اس کے 59 فیصد ملازمین ’سفید فام‘ ہیں جبکہ ایشیائی اصل کے ملازمین کی تعداد 29 فیصد ہے۔
اس کے ساتھ ہی ٹوئٹر بھی اب ان کمپنیوں میں شامل ہو گیا ہے جو اپنے ملازمین میں تنوع کے حوالے سے رپورٹ جاری کرتی ہیں۔ اس طرح کی پہلی رپورٹ گوگل نے جاری کی تھی۔
کمپنی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسے اپنے جیسی دیگر کمپنیوں کی طرح اس سمت میں ابھی اور کام کرنے کی ضرورت ہے۔

،تصویر کا ذریعہTWITTER
بیان میں کہا گیا ہے کہ نسل اور جنس کے حوالے سے ٹوئٹر کے حالات گوگل، یاہو اور فیس بک جیسے ہی ہیں۔
اس کے کل ملازمین میں سیاہ اور لاطینی امریکی نژاد لوگوں کی تعداد بالترتیب دو اور تین فیصد ہے۔
خواتین کا کردار
کمپنی میں قیادت کا کردار ادا کرنے والے ملازمین میں سفید فام کی تعداد 72 فیصد ہے۔ وہیں اس طرح کے عہدوں میں سے صرف 21 فیصد پر ہی خواتین کا تقرر کیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہTWITTER
ٹوئٹر میں تکنیکی کام کرنے والوں میں خواتین کی تعداد اور بھی کم ہے۔ 90 فیصد تکنیکی عہدے مردوں کے پاس ہیں اور صرف 10 فیصد خواتین ہی تکنیکی کام سے وابستہ ہیں۔
سیلیکون ویلی کی کمپنیوں نے نسلی اور جنسی عدم توازن کی طرف توجہ دینا شروع کی ہے اور اس سال مئی میں گوگل نے اپنی ڈائیورسٹی رپورٹ جاری کی تھی۔
ایسی رپورٹ جاری کرنے والی وہ پہلی کمپنی تھی۔
ٹوئٹر کے انسانی وسائل کے شعبہ میں کام کرنے والی زینیٹ وان ہیوسي نے اپنے بلاگ میں لکھا ہے کہ ’مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ متنوع ٹیم اچھے فیصلے کرتی ہے اور خواتین اپنی کمپنیوں کو اچھے مالیاتی نتائج دیتی ہیں۔‘







