ہوا کے بگولوں سے بچنے کی تجویز: تین دیواریں کھڑی کردیں

،تصویر کا ذریعہReuters

امریکی ماہر طبعیات کا کہنا ہے کہ امریکہ کے جن حصوں میں تیز رفتار ہوا کے بگولے عام ہیں ان علاقوں میں تین بلند دیواریں تعمیر کرنے سے نقصان سے بچا جا سکتا ہے۔

ٹیمپل یونیورسٹی فلاڈیلفیا کے پروفیسر رونگجیا تاؤ کا کہنا ہے کہ 980 فٹ بلند اور 100 میل لمبی تین دیواروں سے ہوا کی شدت اور رفتار کو کم کیا جا سکتا ہے اور اس طرح بگولے بننے سے قبل ہی ہوا کی شدت میں کمی واقع ہو جائےگی۔

پروفیسر کا کہنا ہے کہ ایسی دیواریں تعمیر کرنے پر 16 ارب ڈالر لاگت آئے گی لیکن ان کی وجہ سے اربوں ڈالرز کے نقصان سے بچا جا سکے گا جو ہر سال ہوتا ہے۔

پروفیسر نے یہ تجویز ڈینور میں امریکن فیزیکل سوسائٹی کے اجلاس میں دی۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ تجویز ناقابل عمل ہے اور اس سے مسائل کم ہونے کے بجائے زیادہ ہو جائیں گے۔

ہر سال روکی اور ایپلیچیئن پہاڑی سلسلے میں سینکڑوں ہوا کے بگولے تباہی مچاتے ہیں۔

یہ دیواریں اس علاقے میں قصبوں کو محفوظ نہیں بنائیں گی کیونکہ ان ہوا کے بگولوں کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے۔

یہ دیواریں جنوبی گرم ہواؤں اور شمالی ٹھنڈی ہواؤں کو ملنے سے روکیں گی جس کے باعث ہوا کے بگولے بنتے ہیں۔

پروفیسر تاؤ کا کہنا ہے ’ایک دیوار نارتھ ڈکوٹا، ایک کینسس اور اوکلاہوما کی سرحد پر اور تیسری دیوار جنوبی ٹیکساس اور لوزیانا میں بنانے سے ہم اس علاقے میں ہوا کے بگولوں کے خطرے کو ہمیشہ کے لیے کم کرسکتے ہیں۔‘

ثبوت کے طور پر انھوں نے چین کی مثال دی جہاں پچھلے سال صرف تین طوفان آئے جبکہ امریکہ میں 803 آئے۔ انھوں نے کہا کہ فرق صرف یہ ہے کہ ان کے شمال سے جنوب میدانی علاقے کے بیچ میں مشرق سے مغرب پہاڑی سلسلہ ہے۔

پروفیسر تاؤ کا کہنا ہے کہ اگرچہ چین میں یہ پہاڑی سلسلہ صرف چند میٹر بلند ہے لیکن یہ ہوا کی شدت کو توڑنے کے لیے کافی ہے۔

پروفیسر تاؤ نے اس تجویز کو ابھی تک امریکی حکومت اور ماحولیاتی ایجنسیوں کو نہیں دی لیکن ماہرِ موسمیات اس تجویز کے خلاف ہیں۔

نیشنل سیویئر سٹورمز لیبارٹری کے ہیرلڈ برکس کا کہنا ہے کہ یہ دیواریں کارآمد ثابت نہیں ہوں گی۔

’سینٹر فار سیویئر ویدر ریسرچ‘ کے پروفیسر جوشوا ورمن کا کہنا ہے ’میں نے جس سے بھی اس تجویز پر بات کی ہے وہ سب ایک سو فیصد اس بات پر قائل ہیں کہ یہ ایک غلط تجویز ہے۔‘