سوشل میڈیا پر جھوٹ پکڑنے کے نظام پر کام شروع

،تصویر کا ذریعہSCIENCE PHOTO LIBRARY
ابھی تک پولیس کی جانب سے ملزمان سے تفتیش کے دوران جھوٹ پکڑنے کے آلے لائی ڈیٹیکٹر (Lie Detector) کا تو سنا تھا جس سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ کوئی شخص جھوٹ بول رہا ہے یا نہیں لیکن اب یہی ٹیسٹ سوشل میڈیا کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹس کے لیے جو لائی ڈیٹیکٹر تیار کیا جا رہا ہے اس سے خبروں میں سچائی کے بارے میں معلوم کیا جا سکے گا۔
یہ نظام فوری طور پر معلوم کرے گا کہ جو خبر سوشل میڈیا پر ڈالی گئی ہے وہ سچی ہے یا نہیں۔
اس نطام کے تحت یہ بھی معلوم کیا جا سکے گا کہ آیا جس اکاؤنٹ سے سوشل میڈیا پر خبر ڈالی گئی ہے وہ اکاؤنٹ اصل ہے یا صرف افواہیں پھیلانے کے لیے بنایا گیا ہے۔
اس نظام کی تیاری کا مقصد تنظیموں، حکومتوں اور ایمرجنسی سروسز کی مدد کرنا ہے تاکہ ان کو سچی خبر اور افواہ میں فرق معلوم چل سکے۔
اس نظام کی تیاری کا فیصلہ سنہ 2011 میں لندن میں ہونے والے فسادات کے بعد کیا گیا۔ اس نظام کی تیاری میں 2011 کے فسادات کے حوالے سے ٹویٹر اور فیس بک پر پر کیے گئے تبصروں پر ریسرچ کی جا رہی ہے۔
اس نظام کی تیاری کے لیے ریسرچ کی سربراہی شیفیلڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹر کیلینا کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا ’2011 کے لندن فسادات کے بعد ایک تجویز دی گئی کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کو بند کردیا جائے تاکہ مظاہرین اکٹھے ہونے کے لیے اس کو استعمال نہ کر سکیں۔‘
تاہم ڈاکٹر کیلینا کا کہنا ہے ’لیکن سوشل میڈیا مفید معلومات بھی مہیا کرتا ہے۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر یہ سب کچھ اتنا جلدی ہوتا ہے کہ آپ بتا نہیں سکتے کہ کیا صحیح اور کیا غلط ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس نظام کے تحت سوشل میڈیا پر ڈالی گئیں خبروں کو ذرائع کے مطابق کیٹیگریز دی جائے گی۔ جیسے کہ ذرائع ابلاغ، صحافی، ماہرین، عینی شاہد۔
ڈاکٹر کیلینا کا کہنا ہے کہ صرف تحریر کا تجزیہ کیا جائے گا، تصاویر کا نہیں۔ یعنی ہم اس بات کا تجزیہ نہیں کریں گے کہ آیا تصاویر کو تبدیل کیا گیا ہے یا نہیں کیونکہ اس میں تکنیکی مشکلات پیش آتی ہیں۔‘
اس پراجیکٹ کا نام فیمے رکھا گیا ہے۔ فیمے یونان کا مشہور افسانوی کردار ہے جو افواہیں پھیلانے کے لیے مشہور تھا۔
یہ پراجیکٹ تین سال تک جاری رہے گا۔







