فیس بُک دس برس کی ہوگئی

کیا دسویں سالگرہ کے بعد فیس بک مستقبل میں بھی اسی طرح ترقی کا سفر جاری رکھے گی؟

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنکیا دسویں سالگرہ کے بعد فیس بک مستقبل میں بھی اسی طرح ترقی کا سفر جاری رکھے گی؟
    • مصنف, جین ویکفیلڈ
    • عہدہ, ٹیکنالوجی رپورٹر

ابھی فیس بک کی 10 ویں سالگرہ کا کیک کاٹا بھی نہیں گیا تھا کہ قیاس آرائیاں ہونے لگیں کہ فیس بک اپنی گیارہویں سالگرہ منا پائےگی؟

اگر حالیہ چند جائزوں پر غور کیا جائے تو یہی بات سامنے آتی ہے کہ اب فیس بک کے دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔

حالیہ رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ فیس بک استعمال کرنے والے پریشان ہیں، نوجوان نسل اس سے بور چکی ہے اور ایک سروے میں تو اسے متعدی بیماری تک قرار دے دیا گیا تھا۔

ان رپورٹوں میں اکثر پر فیس بک کے بانی مارک زوکربرگ کی اداس تصویر لگی ہوتی ہے۔

پرسٹن یونیورسٹی کے محققین نے گوگل سرچ کی مدد سے جب اپنی رپورٹ پیش کی جس میں کہا گیا تھا کہ اگلے تین سال میں فیس بک کی مقبولیت 80 فیصد کم ہو جائے گی، تو سوشل نیٹ ورک نے بھی جوابی حملہ کیا۔

اعداد و شمار پر نظر رکھنے والے فیس بک کے اپنے سائنسدانوں نے اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے پیش گوئی کر دی کہ اس یونیورسٹی میں 2021 تک کوئی طالب علم ہی نہیں رہے گا اور دنیا 2060 میں ہوا ہو جائے گی۔

فوریسٹر ریسرچ سے منسلک تجزیہ کار نیٹ ایلیٹ نے اپنے بلاگ میں لکھا ’باقاعدگی سے فیس بک میں نئی نئی سہولیات شامل اور سائٹ کی فعال ہونے میں اضافہ ہونا اس کی بڑی طاقت رہی۔ اس سے نوجوان طبقہ اس کی طرف تیزی سے اپنی طرف متوجہ ہوا۔ اس خصوصیت نے موجودہ صارفین کو بھی اس توجہ سے باندھے رکھا۔‘

نیٹ ایٹلیٹ نے نیٹ سے منسلک کمپنی کے اعداد و شمار کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ نومبر 2013 میں 18 سے 24 سال کے درمیان کے 86 فیصد امریکی نوجوانوں نے فیس بک کا استعمال کیا۔

انہوں نے لکھا، ’کسی بھی دوسرے سوشل نیٹ ورک کے مقابلے میں فیس بک پر زیادہ نوجوان موجود ہیں۔‘

پرانے صارفین

ایک تحقیق میں پتا چلا کہ 55 سال اور اس سے زیادہ عمر کے جتنے لوگ فیس بک کا استعمال کرتے تھے ان کی تعداد میں 80 فیصد کا اضافہ ہوا ہے

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشنایک تحقیق میں پتا چلا کہ 55 سال اور اس سے زیادہ عمر کے جتنے لوگ فیس بک کا استعمال کرتے تھے ان کی تعداد میں 80 فیصد کا اضافہ ہوا ہے

مگر ہر سروے کو اس طرح رد کرنا فیس بک کے لئے ممکن نہیں رہا ہے۔

ڈیجیٹل ایجنسی آئی سٹریٹجی لیبز نے فیس بک کے ہی سوشل اشتہاراتی نظام سے منسلک اعداد و شمار کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ گزشتہ تین سال میں 30 لاکھ امریکی نوجوانوں نے فیس بک پر آنا چھوڑ دیا۔

ایجنسی کی یہ رپورٹ اس تحقیق کو آگے بڑھاتی ہے جو پيو انٹرنیٹ سینٹر ریسرچ پہلے کر چکا تھا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ ماں باپ کی پابندیوں کی وجہ سے نوجوان فیس بک پر کم آ رہے ہیں۔

ریسرچ میں کہا گیا کہ سچ تو یہ ہے کہ نوجوان اپنے ماں باپ کے ساتھ ایک ہی ڈیجیٹل جگہ پر سماجی رابطے بنانے کی وجہ سے دور رہنے لگے ہیں۔

ماں باپ اپنے بچوں کی کئی ایسی تصاویر فیس بک پر شیئر کرتے ہیں جو انہیں تو بہت اچھی لگتی ہیں مگر وہی تصاویر ان کے بچوں کے لیے فیس بک دوستوں کے درمیان مذاق کا سبب بن جاتی ہیں۔

اس کے علاوہ ماں باپ کی بچوں کو دی گئی عجیب و غریب ہدایتیں بھی فیس بک پر ان کے لیے نامناسب صورتحال پیدا کر دیتی ہیں۔

پيو کے مطابق ان وجوہات کی وجہ سے نوجوان فیس بک پرکم رہنے لگے ہیں اور وہ وٹس ایپ اور سنیپ چیٹ پر زیادہ وقت گزارنے لگے ہیں۔

فیس بک کی معیشت

فیس بک کی آمدنی 2013 میں 55 فیصد بڑھ کر سات ارب 87 کروڑ ڈالر ہو گئی جبکہ منافع سات گنا بڑھ گیا

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشنفیس بک کی آمدنی 2013 میں 55 فیصد بڑھ کر سات ارب 87 کروڑ ڈالر ہو گئی جبکہ منافع سات گنا بڑھ گیا

مگر جہاں اس رپورٹ میں نوجوانوں کی تعداد میں 25 فیصد کی کمی درج کی گئی وہیں یہ بھی پایا گیا کہ 55 سال اور اس سے زیادہ عمر کے جتنے لوگ فیس بک کا استعمال کرتے تھے ان کی تعداد میں 80 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ فیس بک کے عمر بڑھنے کے ساتھ زیادہ عمر کے لوگ اس کا زیادہ استعمال کرنے لگے ہیں؟

تجزیے کرنے والی کمپنی اووم کی ایک تجزیہ کار ایڈن زولر نے بتایا کہ زیادہ عمر کے لوگوں کا اسے استعمال کرنا ایک مثبت رجحان ہے کیونکہ ان لوگوں کے پاس نوجوانوں کے مقابلے میں خرچ کرنے کی صلاحیت بھی زیادہ ہے۔‘

مگر ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ فیس بک ان نوجوانوں کو نظر انداز نہیں کر سکتا کیونکہ یہی نوجوان کل اس کا سرمایہ ہوں گے۔

اس لیے انہوں نے مشورہ دیا کہ ’فیس بک کو موبائل ویڈیو ایپ جیسی نئی ٹیکنالوجی کو اپناتے رہنا چاہئیے۔‘

موبائل پلیٹ فارم پر زور

فیس بک کا موبائل پر استعمال بہت بڑھ گیا ہے اور اسے موبائل پر استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد ایک ارب کے قریب پہنچنے والی ہے
،تصویر کا کیپشنفیس بک کا موبائل پر استعمال بہت بڑھ گیا ہے اور اسے موبائل پر استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد ایک ارب کے قریب پہنچنے والی ہے

فیس بک اپنے صارفین کو اپنے ساتھ رکھ پائے گا یا نہیں ایسی قیاس آرائی مارک زوكربرگ کی نیند اڑا سکتی ہیں۔

مارک زوكربرگ نے فیس بک کا آغاز ہارورڈ یونیورسٹی کے ایک چھوٹے سے کمرے سے کیا تھا۔ اس کے ابتدائی صارفین صرف نوجوان تھے۔ اب اس کے صارفین کی تعداد ایک ارب 23 کروڑ ہو گئی ہے۔

فیس بک کی آمدنی 2013 میں 55 فیصد بڑھ کر سات ارب 87 کروڑ ڈالر ہو گئی جبکہ منافع سات گنا بڑھ گیا۔

سنیپ چیٹ خریدنے کے لیے لگائی بولی ناکام ہونے کے فورا بعد فیس بک نے موبائل ایڈورٹائزنگ جیسی مثبت کوششیں کرنی شروع کر دیں۔

نتیجہ یہ ہوا کہ فیس بک نے دو ارب 34 کروڑ ڈالر کے اعداد و شمار پر نظر رکھنے اور اس کے اشتہارات کی افادیت کو بہتر بنانے کا وعدہ کرنے والی فرم میں سرمایہ کاری کر دی۔

اووم کی تجزیہ زولر کا کہنا ہے کہ ’موبائل اشتہارات میں ناقابل یقین طور پر لوگوں کو اپنی جانب کھینچنے کی طاقت ہے۔‘

انسانی تجسس کی عادت

ایک کمیونیکیشن کے ماہر کا ماننا ہے کہ انسان کی تجسس یا ہوس کی فطرت نے فیس بک سے اسے جوڑے رکھا ہوا ہے

،تصویر کا ذریعہthinkstock

،تصویر کا کیپشنایک کمیونیکیشن کے ماہر کا ماننا ہے کہ انسان کی تجسس یا ہوس کی فطرت نے فیس بک سے اسے جوڑے رکھا ہوا ہے

فیس بک کے بارے میں قیاس آرائی کرنے والے جتنے بھی سروے ہیں، حیرت کی بات ہے کہ ان میں سے کسی ایک میں اس بات کا کوئی تجزیہ موجود نہیں ہے کہ لوگ اب بھی کیوں فیس بک کا استعمال کر رہے ہیں۔

بی بی سی کے سابق تکنیکی ڈیسک ایڈیٹر اور فیس بک کمیونیکیشن منیجر ایئن میکنزی نے اپنے تازہ اسٹیٹس میں بتایا ہے کہ کیوں فیس بک آج بھی کارآمد ہے۔

میکنزی نے لکھا ’لوگ اپنی ہر بات، مثلا بچے کی پیدائش، شادی، علیحدگی، خوشی، غم، کام، وغیرہ کئی باتیں شیئر کرنا چاہتے ہیں۔ یہ سب فیس بک پر ممکن ہو گیا ہے۔ یہاں انہیں اپنے پسندیدہ گیت بھی مل جاتے ہیں اور وہ کسی بلی کی تصویر کو لائک بھی کر سکتے ہیں۔‘

سچ تو یہ ہے کہ انسان کی ایک فطرت ہے تجسس یا ہوس اور فیس بک نے لوگوں کے اسی مزاج کو قائم کیا ہے۔

ہم چاہیں پسند کریں، یا نہ کریں، فیس بک لوگوں کی زندگی کا آن لائن ناول بن چکا ہے۔ اور زیادہ تر لوگوں میں یہ پڑھنے کی طلب بھی کم نہیں ہوئی ہے۔