گلوکوز کی مقدار ناپنے والا کانٹیکٹ لینز

،تصویر کا ذریعہGOOGLE
گوگل کمپنی کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک ایسے ’سمارٹ کانٹیکٹ لینز‘ پر کام کر رہے ہیں جو آنسوؤں سے کسی فرد کے جسم میں گلوکوز کی مقدار کا تعین کر سکے گا۔
اس لینز کی دو تہوں میں ایک وائر لیس چپ اور ایک گلوکوز سینسر لگا دیا جائے گا۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ لینز میں ایک چھوٹی سے لیڈ لائٹ یا بلب بھی لگا دیں گے جو کہ گلوکوز کی مقررہ مقدادر سے تجاوز کرنے کی صورت میں روشن ہو جائےگی۔
کمپنی کا کہنا تھا کہ اس ٹیکنالوجی کو روزہ مرہ استعمال میں لانے کے لیے تیار کرنے پر ابھی کافی کام کیا جانا باقی ہے ۔
کمپنی نے ایک بلاگ میں کہا ہے کہ ’ابھی یہ ٹیکنالوجی ابتدائی مراحل سے گزر رہی ہے لیکن لیباٹری کی سطح پر کئی تجربے کر لیےگئے ہیں جن سے اس کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے۔
کمپنی کا مزید کہنا تھا کہ امید کی جا سکتی ہے کہ ذیابیطس کے مریض جلد ہی اپنی بیماری پر نظر رکھ سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہSENSIBLE BABY
کئی عالمی کمپنیاں اس طرح کی ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہیں جن کو پہنا جا سکےگا اور خیال یہ ہی ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ ہی میدان ایسا ہے جس کا مستقل تابناک ہے۔
مختلف اندازوں کے مطابق اگلے پانچ برس میں اس شعبے میں پانچ ارب ڈالر سے لے پچاس ارب ڈالر تک کی ترقی متوقع ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ذیابیطس کی عالی تنظیم انٹرنیشنل ذیابیطس فیڈریشن کے مطابق سنہ 2035 تک دس میں سے ایک شخص ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہوگا۔
لوگوں کو بڑی باقاعدگی سے اپنے گلوکوز لیول کا خیال رکھنا پڑے گا کیونکہ اس میں اچانک اضافہ یا کمی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ابھی تک لوگ اپنی خون کے قطروں کا ٹیسٹ کر کے اس کا اندازہ لگاتے ہیں۔
گوگل کا کہنا ہے کہ وہ اس لینز کے ایک ایسے نمونے کا تجربہ کر رہی ہے جو ہر سیکنڈ بعد گلوکوز لیول کی ایک ریڈنگ دیں گے۔







