نقل کا سافٹ ویئر خراب ہونے سے یونیورسٹیاں پریشان

سافٹ ویئر میں خرابی کی وجہ سے طلبہ کو اپنے کورس ورک کے لیے مزید وقت مل گیا
،تصویر کا کیپشنسافٹ ویئر میں خرابی کی وجہ سے طلبہ کو اپنے کورس ورک کے لیے مزید وقت مل گیا

برطانیہ میں بعض یونیورسٹیوں کی جانب سے نقل کا پتہ لگانے والے سافٹ ویئر میں خرابی کے باعث طلبہ کو دی گئی حتمی مہلت بڑھانی پڑی ہے۔

اس واقعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ یونیورسٹیاں طلبہ کو انٹرنیٹ سے مواد نقل کرنے سے روکنے میں کس حد تک ٹیکنالوجی پر انحصار کرتی ہیں۔

اس سافٹ ویئر کا نام ’ٹرن اِٹ اِن‘ ہے اور یہ اکثر برطانوی یونیورسٹیوں میں طلبہ کو نقل سے روکنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ سافٹ ویئر بنانے والی کمپنی نے پیر اور منگل کو ’سروس میں خرابی‘ کی اطلاع دی تھی۔

اس کے باعث یونیورسٹیوں نے طلبہ کو اپنا کورس ورک مکمل کرنے کے لیے مزید وقت دے دیا ہے۔

بدھ کو ٹرن اٹ ان کے ترجمان نے کہا کہ ان کی کمپنی کو سروس کی خرابی پر افسوس ہے اور یہ تکنیکی خرابی کو اب دور کر لی گئی ہے۔

یہ سافٹ ویئر تقریباً برطانیہ کی ہر یونیورسٹی میں طلبہ کی طرف سے جمع کیے گئے کام میں انٹر نیٹ سے کی گئی نقل پکڑنے اور طلبہ کے کام کے آپس میں موازنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

امریکہ میں قائم سافٹ ویئر کی یہ کمپنی رواں سال برطانوی طلبہ کے کام کے تقریباً 80 لاکھ نمونوں میں سے چوری شدہ مواد کا سراغ لگانے کے لیے جانچ پڑتال کرے گی۔

کمپنی کے ترجمان نے کہا کہ پیر اور منگل کو سافٹ ویئر میں خرابی کا یہ واقعہ صرف برطانیہ میں پیش آیا ہے۔

آکسفرڈ بروکس یونیورسٹی نے اپنی ویب سائٹ پر ایک بیان میں کہا کہ انھیں ٹرن اٹ ان سافٹ ویئر میں خرابی کا علم ہے۔ یونیورسٹی نے طلبہ کو خبردار کیا کہ بعض ’تکنیکی مسائل‘ کی وجہ سے ان کو کام ختم کرنے کی حتمی مہلت 24 گھنٹے تک بڑھا دی گئی ہے۔

پورٹس ماؤتھ یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر بھی مہلت بڑھانے کے پیغامات دیے گئے تھے۔

ہل، ڈربی، برائٹن، ریجنٹ، کوئین، بیل فاسٹ، اور اڈنبرا ان یونیورسٹیوں میں سے تھیں جنھوں نے اپنے ٹوئٹر پیغامات میں ٹرن اٹ ان میں خرابی کے بارے میں خبردار کیا تھا۔