سٹیم سیل کے اہم تجربے کا آغاز

جاپانی حکومت نے مریض کے اپنے جسم کے پیدا کردہ سٹیم سیلز کا تجرباتی مطالعہ منظور کر لیا ہے۔
سٹیم سیلز کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ جسم کے کسی بھی حصے کے خلیوں میں ڈھل سکتے ہیں۔ وہ دماغ سے ہڈیوں تک کسی بھی عضو کی خلیوں کی شکل اختیار کر اس عضو میں موجود بیماری کو ختم کر سکتے ہیں۔ اسی باعث سٹیم سیلز کو طب کا مستقبل قرار دیا جا رہا ہے۔
تحقیق کاروں نے جاپان میں سٹیم سیل استعمال کر کے نابینا پن کی ایک قسم کا علاج کرنے کی کوشش کریں گے۔ یہ بیماری عمر کے باعث ہونے والا میکیولر ڈی جنریشن کہلاتی ہے۔
اس اقدام کو اس میدان میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اس وقت دنیا میں کئی ایسے تجربات کیے جا رہے ہیں جن میں جنین یا ایمبریو سے سٹیم سیل حاصل کیے جاتے ہیں۔ لیکن اس قسم کے تجربات پر اخلاقی لحاظ سے اعتراض کیے جاتے ہیں، جب کہ دوسری طرف چوں کہ یہ خلیہ خود مریض کے اپنے جسم کے نہیں لیے جاتے اس لیے بعض اوقات مریض کا جسم انھیں مسترد کر دیتا ہے۔
تاہم اس نئے تجربے میں مریض کی جلد کی خلیوں کو اس طرح انگیخت کیا جاتا ہے کہ وہ سٹیم سیل بن جاتے ہیں۔ اس طرح ان کے مسترد کیے جانے کا بھی کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔
جاپان کے وزیرِ صحت نوری ہیسا تامور نے اب فیصلہ دیا ہے کہ یہ خلیے اب مریضوں پر استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
اس تجربے میں چھ مریضوں کی آنکھوں میں سٹیم سیل لگائے جائیں گے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا اس سے ان کی بینائی واپس آ سکتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یونیورسٹی کالج آف لنڈن میں ری جنریٹیو میڈیسن کے ماہر پروفیسر کرس میسن کہتے ہیں: ’یہ ایک بہت بڑی پیش رفت ہے۔ یہ دو وجوہات کی بنا پر فائدہ مند ہے۔ ایک تو یہ کہ یہ خلیے خود مریضوں کے جسم سے حاصل کیے گئے ہیں اس لیے ان کے مسترد ہونے کا امکان بہت کم ہے۔ اس کے علاوہ ان کی ساتھ وہ اخلاقی مسائل نہیں ہیں جو ایمبریو سے حاصل کردہ سٹیم سیلز میں ہوتے ہیں۔‘
تاہم انھوں نے کہا کہ اس طریقۂ کار کے نقصانات بھی ہیں: ’ہم اس میدان میں ایک عشرہ پیچھے ہیں۔ اس قسم کے خلیے بہت بعد میں دریافت ہوئے اس لیے فی الحال کے تحفظ کے بارے میں معلومات کم ہیں۔‘
2012 میں پروفیسر شنیا یاماناکا نے طب اور فزیالوجی کا نوبیل انعام اس دریافت پر جیتا تھا کہ بالغ انسان کی بافتوں کو ایک خاص طریقے سے انگیخت کر کے ان سے سٹیم سیل تیار کیے جا سکتے ہیں۔







