سویڈن: بیٹیوں میں ماؤں کی کوکھ کا ٹرانس پلانٹ

آخری وقت اشاعت:  بدھ 19 ستمبر 2012 ,‭ 13:40 GMT 18:40 PST
بچہ دانی کا ٹرانس پلانٹ

اس معاملے میں مریضوں کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔

سویڈن کی دو خواتین ایسی کوکھ سے بچوں کو جنم دینے والی مائیں بن سکتی ہیں جو انہیں ان کی ماں سے لےکر ٹرانس پلانٹ کی گئی ہیں۔

سویڈن میں اس آواخرِ ہفتہ ہونے والے اس ٹرانس پلانٹ میں دس ڈاکٹروں نے حصہ لیا۔

اس معاملے میں مریضوں کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وہ اُس وقت تک اِس آپریشن کو کامیاب قرار نہیں دے سکتے جب تک یہ خواتین اس کوکھ سے بچے کو جنم نہیں دیتیں۔

سویڈن کے سرجن ڈاکٹر مائیکل اولاسن نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس ٹرانس پلانٹ کی کامیابی کا واحد ثبوت یہی ہوگا جب یہ خواتین حاملہ ہوں اور بچے کو جنم دیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ایک سال تک ان خواتین کی صحت کی نگرانی کے بعد ان کےصحت مند ہونے کی صورت میں منجمد ’ایمبریو‘ یعنی جنین (ماں کے رحم میں بچے کی ابتدائی شکل) واپس ان خواتن میں منتقل کر دی جائے گی۔

ان دونوں خواتین کی عمر تیس کے آس پاس ہے اور آپریشن کے بعد اب ان کی حالت بہتر ہو رہی ہے۔

ان میں سے ایک کی کینسر کے سبب بچہ دانی نکال دی گئی تھی جبکہ دوسری کے جسم میں پیدائشی طور پر بچہ دانی تھی ہی نہیں۔

جن ماؤں نے اپنی بچہ دانیاں دی ہے وہ جلدی ہی صحت یاب ہوکر ہسپتال سے رخصت ہو جائیں گی۔

پہلی مرتبہ بچہ دانی کا ٹرانس پلانٹ غالباً سنہ 2000 میں سعودی عرب میں کیا گیا تھا لیکن خون کا لوتھڑا بن جانے کے سبب تین ماہ کے اندر ہی بچہ دانی نکال دی گئی تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>