
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ گردوں کی پیوندکاری کے آپریشن کے دوران ’سٹیم سیلز‘ کے ایک ٹیکے سے مریض زندگی بھر کی ادویات سے چھٹکارا پا سکتے ہیں۔
امریکی ہسپتالوں میں اس ترکیب کے ابتدائی تجربے چند مریضوں پر کامیاب رہے ہیں۔
واضح رہے کہ کسی بھی عضو کو تبدیل کرنے کے آپریشن کے بعد مریض کا جسم اس نئے عضو کو اجنبی قرار دے دیتا ہے اور ایسے میں مریض کو عمر بھر ادویات کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ اگرچہ یہ ادویات نئے عضو کو جسم کا حصّہ تسلیم کرنے میں مفید تو ثابت ہوتی ہیں لیکن ان سے بلڈ پریشر، ذيابيطس اور دیگر انفیکشنز کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
ایسے میں یہ نئی ترکیب، جس سے مریض ان ادویات سے نجات پا سکتا ہے، بہت فائدہ مند ہے۔ یہاں تک کہ محققین کے مطابق یہ عضو کی تبدیلی کی سائنس کو ہمیشہ کے لیے بدل سکتی ہے۔
یہ تحقیق امریکہ میں یونیورسٹی آف لوزوِل اور شکاگو شہر کے نارتھ ویسٹرن میموریل ہسپتال کے تعاون سے آٹھ مریضوں پر آزمائی گئی۔ آپریشن سے قبل، جس شخص نے عضو عطا کیے، ڈاکٹروں نے اسی کے خون سے سٹیم سیلز بھی نکال لیے۔ آپریشن کے چند روز بعد ڈاکٹروں نے یہ سیلز مریض کے جسم میں ڈال دیے۔
اگرچہ شروع میں تو مریضوں کو ادویات کی ضرورت پڑی لیکن اس ترکیب کا مقصد انہیں آہستہ آہستہ کم کرنا تھا۔ تاہم آٹھ میں سے پانچ مریضوں نے آپریشن کے ایک سال کے اندر ہی ان ادویات سے مکمل نجات حاصل کر لی۔
ان پانچ مریضوں میں سے ہی ایک سینتالیس سالہ لنڈسے پورٹر ہیں جو کہتی ہیں ’ان ادویات سے جو تکالیف مریضوں کو اٹھانی پڑتی ہیں، ان کے متعلق میں نے کافی کچھ سنا ہے کیونکہ یہ بہت زیادہ ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا ’مجھے عجیب و غریب لگتا ہے جب میں اپنے بارے میں سوچتی ہوں کیونکہ میں بالکل ٹھیک اور صحت مند محسوس کر رہی ہوں۔‘
نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے ڈاکٹر جوزف لیوینتھل نے بتایا ’اس ترکیب کے ابتدائی نتائج بہت دلچسپ ہیں اور یہ مستقبل میں عضو کی تبدیلی پر بہت حد تک متاثر کر سکتے ہیں۔‘






























