
ایک ہیکر تنظیم نے آئی فون اور آئی پیڈ کے شناختی نمبر انٹرنیٹ پر جاری کر دیے تھے
حال ہی میں ایک ہیکر تنظیم اینٹی سیک نے ایپل آئی فون اور آئی پاڈ کے مخصوص شناختی نمبر (یو ڈی آئی ڈی) چوری کر کے انٹرنیٹ پر جاری کر دیے تھے۔ اس کے بعد سے آئی فون یا آئی پیڈ کے بہت سے صارفین اس تشویش میں مبتلا ہو گئے ہیں کہ اس ہیکنگ سے ان پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
لیکن یو ڈی آئی ڈی ہوتا کیا ہے؟ جس طرح ہر گاڑی کا ایک مخصوص چیسس نمبر ہوتا ہے جس کی مدد اس گاڑی کو شناخت کیا جا سکتا ہے، اسی طرح ہر آئی فون اور آئی پیڈ کا بھی ایک مخصوص شناختی نمبر ہوتا ہے۔
البتہ اس شناختی نمبر میں اس کے مالک کی ذاتی معلومات شامل نہیں ہوتیں۔ تاہم بعض اوقات ایپل کے لیے سافٹ ویئر بنانے والی کمپنیاں ایپل کی مرضی کے بغیر نمبر کو کسی ڈیوائس کا محلِ وقوع جاننے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔
مثال کے طور پر ایک کھانا پکانے کی ایپ (یعنی آئی فون یا آئی پیڈ کی سافٹ ویر ایپلیکیشن) کا تصور کیجیے جو پاس ورڈ کی بجائے غیرمناسب طریقے سے شناختی نمبر استعمال کرتی ہے۔
اس ایپ کی مدد سے ٹوئٹر یا فیس بک کے بعض پروگرام بھی حرکت میں آ سکتے ہیں جن کی مدد سے صارف سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے پسندیدہ نسخوں کی تشہیر کر سکتے ہیں۔
اگر ہیکر کے پاس کسی ڈیوائس کا نمبر موجود ہو تو انہی ایپس کو استعمال کر کے ممکنہ طور پر صارف کی شناخت معلوم کر سکتا ہے۔
تاہم اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہیکر آپ کے آئی فون کا کنٹرول سنبھال سکتے ہیں۔ البتہ وہ یہ کر سکتے ہیں صارف کی کچھ ذاتی معلومات تک رسائی حاصل کر لیں۔
اسی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے ایپل یو ڈی آئی ڈی کو ترک کر کے ایک قسم کی عمومی آئی ڈی کا استعمال کرنے جا رہا ہے جسے سی ایف یو ڈی آئی ڈی کہا جاتا ہے۔
"اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہیکر آپ کے آئی فون کا کنٹرول سنبھال سکتے ہیں۔ البتہ وہ یہ کر سکتے ہیں صارف کی کچھ ذاتی معلومات تک رسائی حاصل کر لیں۔"
ایپل نے واضح طور یہ نہیں کہا کہ اس تبدیلی کی وجوہات کیا ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ وہ ایسے عمومی آئی ڈی لانا چاہتا ہے جو کسی ڈیوائس کے ساتھ منسلک نہ ہوں۔ تاہم یہ اقدام ایپل کے لیے سافٹ ویر بنانے والی کمپنیوں کے لیے دردِ سر کا باعث بنے گا جو یو ڈی آئی ڈی کی مدد سے صارف کی شناخت کرتے ہیں۔
سو اگر آپ آئی فون یا آئی پیڈ استعمال کر رہے ہیں تو کیا آپ کو پریشان ہونا چاہیے؟ اس کا جواب ہے، تھوڑا سا۔
فی الحال صورت یہ ہے کہ چند ایپس شناختی نمبر کو ذاتی معلومات کے حصول کے لیے استعمال کر رہی ہیں، لیکن بہت سی ایسا نہیں کرتیں۔
جب اس سارے قضیے سے دھند چھٹے گی تب معلوم ہو گا کہ کون سی ایپس اس نمبر کا غلط استعمال کرتی ہیں۔
سچ تو یہ ہے کہ کمپیوٹر کے صارفین کو شناختی نمبر کے مسئلے سے کہیں زیادہ بڑے دوسرے خطرات کا سامنا ہے۔ اس لیے اگر انہیں پریشان ہونا ہی ہے تو اس کے دوسرے مواقع وافر مقدار میں موجود ہیں۔






























