’لندن 2012 تاریخ کے ماحول دوست ترین اولمپکس‘

،تصویر کا ذریعہAFP
اولمپک مقابلوں کے ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے بنائے گئے ایک کمشن کا کہنا ہے کہ لندن دو ہزار بارہ کے مقابلے ماحولیاتی لحاظ سے تاریخ کے بہترین مقابلے تھے۔
’کمشن فار سسٹین ایبل لندن 2012‘ کا کہنا تھا کہ ان مقابلوں میں ’ریسائیکلنگ‘ یعنی بازگردانی کی مہم انتہائی کامیاب رہی ہے۔
تاہم کمشن کا کہنا تھا کہ آئندہ اولمپکس کے ماحول پر اثرات کو کم کرنے کے لیے مزید اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
کمشن چیئرمین شان مکارتھی نے کہا کہ لندن مقابلوں نے ماحولیاتی طرز سے مستقبل کے میزبانوں کے لیے ایک بہترین میعار کا تعین کر دیا ہے۔
ماضی میں اولمپک مقابلوں پر شدید تنقید کی جاتی رہی ہے جس میں گندگی پھیلانے، تعمیرِ نو اور آمد و رفت کی وجوہات ہیں۔
لندن کو اولمپک مقابلوں کی میزبانی کا اعزاز دینے کی ایک اہم وجہ ماحولیاتی احتیاط کی منصوبہ بندی تھی اور کمشن کا کہنا ہے کہ منتظمین نے اپنے بیشتر اہداف حاصل کیے ہیں۔
ماحولیاتی احتیاط کے اقدامات کی ایک مثال اولمپک مقابلوں کے مقامات کی تعمیر میں استعمال ہونے والی اشیا میں سے ایک چوتھائی حصہ بازگردانی شدہ مواد کا ہونا تھا۔
اولمپک پارک کے جدید بجلی کے نظام اور خود کار طریقے سے بجلی پیدا کرنے کے انتظامات کی بھی تعریف کی گئی۔ کمشن آمد و رفت کے نظام کی کامیاب سے بھی خوب متاثر ہوا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کمشن کا کہنا تھا کہ آئندہ میزبان شہروں کے لیے ایک اہم چیلنج اولمپک کھیلوں کے اصل مقامات سے دور، ان کے ساز و سامان بنانے والی کمپنیوں اور مقابلوں میں تشہیر کرنے والی کمپنیوں کے سماجی عقائد کا تھا۔
شان مکارتھی کا کہنا تھا کہ کھیلوں کے لیے عارضی عمارتوں کے استعمال سے ایک بہترین مثال قائم ہوئی۔
انہوں نے مشرقی لندن میں اولمپک پارک والے علاقے سٹریڈفورڈ کو آمد و رفت کے لحاظ سے یورپ کا بہترین مقام قرار دیا۔
انہوں نے آئندہ میزبان شہریوں اور اولمپک کمیٹی کے لیے اس سے بہتر کامیابی کی تمنا ظاہر کی۔







