فن لینڈ میں براڈ بینڈ اب قانونی حق

اس وقت فِن لینڈ کی چھیانوے فیصد آبادی آن لائن ہے
،تصویر کا کیپشناس وقت فِن لینڈ کی چھیانوے فیصد آبادی آن لائن ہے

یورپی ملک فِن لینڈ دنیا کا وہ پہلا ملک بن گیا ہے جس نے اپنے شہریوں کو براڈ بینڈ انٹرنیٹ کے استعمال کا قانونی حق دے دیا ہے۔

یکم جولائی سنہ 2010 سے فن لینڈ کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ اسے ایک میگابائٹ فی سیکنڈ رفتار کا انٹرنیٹ کنکشن مہیا کیا جائے۔

فٹ لینڈ کی حکومت نے سنہ 2015 تک ملک کے کونے کونے میں سو میگا بائٹ فی سیکنڈ رفتار کے انٹرنیٹ کنکشن پہنچانے کا عزم کر رکھا ہے۔

فِن لینڈ میں ٹیلی کام کےتمام ادارے پچاس لاکھ سے زائد لوگوں کو یہ سہولت فراہم کریں گے جن میں ملک کے دورداز علاقوں میں رہنے والے افراد بھی شامل ہیں اور اس انٹرنیٹ براڈ بینڈ کنکشن کی رفتار کم سےکم ایک میگابائٹ فی سیکنڈ ہوگی۔

فنِ لینڈ کی حکومت کے اس اقدام کا مقصد لوگوں کو آن لائن خدمات مہیا کرنا ہے جس کے ذریعے ملک بھر میں اخراجات میں کمی ہوگی اور معیارِ زندگی بھی بلند ہوگا۔ فن لینڈ کی وزیرِ مواصلات سووی لنڈن نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’ہم نے فن لینڈ کے ہر شہری کی زندگی میں انٹرنیٹ کی اہمیت کا احساس کیا ہے۔ انٹرنیٹ خدمات اب صرف تفریح کے لیے استعمال نہیں ہوتیں‘۔

ایک اندازے کے مطابق اس وقت فِن لینڈ کی چھیانوے فیصد آبادی آن لائن ہے اور صرف چار ہزار لوگوں کو مزید براڈ بینڈ انٹرنیٹ کنکشن دینا ہوں گے۔