جاپان میں فلاپی ڈسک جیسی قدیم ٹیکنالوجی کے استعمال کو ترک کرنے کا اعلان

    • مصنف, جیمز فٹس جیرالڈ
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

جاپان میں ڈیجیٹل امور کے وزیر تارو کونو نے ملک میں بیوروکریٹس کی جانب سے فلاپی ڈسک اور دیگر پرانی ٹیکنالوجی کے استعمال کے خلاف ’اعلان جنگ‘ کر دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ جاپان میں آج بھی 1900 کے قریب سرکاری کاموں کے لیے کسی کاروبار کو سی ڈی، منی ڈسک اور ایسی دیگر سٹوریج ڈیوائسز درکار ہوتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا تاکہ لوگوں کو آن لائن سروسز استعمال کرنے کی بھی اجازت دی جاسکے۔

جاپان کی شہرت جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے ہے۔ مگر اس کے سرکاری دفاتر اب بھی بہت پرانی ٹیکنالوجی پر چل رہے ہیں۔

فلاپی ڈسک کو 1960 کی دہائی میں بنایا گیا تھا۔ اسے یہ نام اس لیے دیا گیا کیونکہ اس وقت کا پراڈکٹ لچکدار تھا۔ اب کئی دہائیوں بعد فلاپی ڈسک قدیم ٹیکنالوجی تصور کی جاتی ہے کیونکہ سٹیوریج کے لیے اس سے کہیں زیادہ پائیدار اور بہتر ڈیوائسز موجود ہیں۔

مثلاً 32 جی بی کی ایک عام سی یو ایس بی کا ڈیٹا فلاپی ڈسک میں منتقل کرنے کے لیے 20 ہزار سے زیادہ فلاپی ڈسک درکار ہوں گی۔

تاہم اس تاریخی فلاپی ڈسک کا حوالہ آج بھی ہر جگہ ملتا ہے جیسے کمپیوٹر پر کہیں بھی کچھ بھی ’سیو‘ کرنے کے لیے اسی فلاپی ڈسک کی تصویر پر کلک کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

جاپان کی ایک سرکاری کمیٹی نے ایسے 1900 کاموں کی نشاندہی کی ہے جن میں ڈیٹا کے لیے فلاپی ڈسک استعمال کرنا پڑتی ہے۔

گزشتہ ہفتے ایک نیوز کانفرنس کے دوران کونو نے اس بات پر تنقید کی کہ ملک میں آج بھی قدیم ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں فیکس مشین سے جان چھڑانا چاہتا ہوں۔ میں آج بھی اس کے لیے منصوبہ بندی کر رہا ہوں۔‘

پھر سٹوریج ڈیوائسز پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’آج کل کوئی فلاپی ڈسک خریدتا بھی کہاں سے ہے؟‘

یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ ان پرانی عادات کی وجہ سے جاپان سرخیوں میں آیا ہے۔ اس ملک کے بارے میں ایسا تاثر نہایت عجیب ہے کیونکہ دنیا بھر میں جاپان کو ٹیکنالوجی کی نئی پراڈکٹ بنانے کے لیے جانا جاتا ہے۔

اس کی وضاحت کے لیے کئی وجوہات کا ذکر کیا جاتا ہے جس میں ڈیجیٹل لٹریسی کی کمی، بیوروکریسی کلچر اور قدامت پسند رویے شامل ہیں۔

2018 میں ملک میں سائبر سکیورٹی کے وزیر نے تسلیم کیا کہ انھوں نے کبھی کمپیوٹر استعمال نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ آئی ٹی سے متعلق تمام کام اپنے عملے سے کرواتے ہیں۔

جاپان میں 2019 کے دوران اس کی ایک آخری پیجر سروس نے اپنا کام بند کر دیا تھا۔ اس کے آخری چند سبسکرائبرز میں سے ایک کا کہنا تھا کہ وہ اپنی بوڑھی ماں سے بات کرنے کے لیے اس طریقے کو ترجیح دیتے تھے۔

2010 کی دہائی تک امریکی حکام بھی فلاپی ڈسک کی مدد سے اپنے جوہری ہتھیاروں کی نگرانی کرتے پائے گئے تھے۔ تاہم اطلاعات کے مطابق دہائی کے اواخر میں انھوں نے اسے ترک کر دیا تھا۔