وہ سات طریقے جن کی مدد سے دنیا توانائی بحران سے نمٹ رہی ہے

،تصویر کا ذریعہGettty Images
- مصنف, سٹیفنی ہیگارٹی
- عہدہ, بی بی سی
ایک ایسے وقت میں جب متعدد عوامل، جن میں خشک سالی، شدید گرمی کی لہر، عالمی وبا اور جنگ شامل ہیں، عالمی تونائی بحران پیدا کر رہے ہیں جرمنی نے اپنی توانائی کی کھپت میں کمی لانے کے لیے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
لیکن توانائی یا ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمت ایک ایسا مسئلہ ہے جو اس وقت پوری دنیا کو درپیش ہے اور صرف جرمنی واحد ملک نہیں جو ان حالات سے نمٹنے کے لیے ترکیبیں تلاش کر رہا ہے۔
دنیا بھر میں حکومتیں سات طریقوں کے ذریعے اس بحران سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
روس کی جانب سے قدرتی گیس کی فراہمی میں کمی کے بعد سے یورپ میں توانائی کی قیمت دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہو چکی ہے۔ اس لیے توانائی کے ضیاع کو روکنا یورپی ممالک کی حکومتوں کی سب سے بڑی ترجیح ہے۔
ایئر کنڈیشنر اور ہیٹنگ کو محدود کرنا
یورپی یونین نے حال ہی میں ایک منصوبے کے تحت موسم سرما سے قبل گیس کی کھپت میں 15 فیصد کمی لانے کا اعلان کیا ہے۔ اسی منصوبے کے تحت اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے گا کہ یکم نومبر سے قبل قدرتی گیس کے ذخائر 80 فیصد تک بھر چکے ہوں۔
جرمنی، فرانس اور سپین نے ایسے قوانین متعارف کروائے ہیں جن کے تحت عوامی مقامات پر ہیٹنگ یا گرمائش پیدا کرنے والے سسٹمز کو 19 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھا جائے گا۔ فرانس اور سپین میں ایئر کنڈیشنر کے ذریعے ٹھنڈک پیدا کرنے والی عمارتوں کے لیے بھی 26 سے 27 ڈگری سینٹی گریڈ کی حد طے کر دی ہے۔
فرانس میں ایئر کنڈیشنر والی دکانوں کو اپنے دروازے بند رکھنا ہوں گے ورنہ ان کو 750 یوروز کا جرمانہ کیا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق ایسے اقدامات، مثلا ہیٹنگ چند درجے کم رکھنے سے، یورپ میں اتنی گیس بچائی جا سکتی ہے جتنی موسم سرما میں روس سے حاصل کی جاتی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بتیاں بند کر دیں
جرمنی نے کہا ہے کہ عوامی عمارات اور یادگاروں کو اب رات کے وقت روشن رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں جبکہ سپین میں دکانوں کو رات 10 بجے بتیاں بند کرنا ہوں گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فرانس کا ماننا ہے کہ ان اقدامات سے بجلی یا توانائی کی کھپت میں 10 فیصد کمی واقع ہو گی۔ واضح رہے کہ فرانس روس کی گیس پر جرمنی کی نسبت کم انحصار کرتا ہے کیوں کہ یہاں 42 فیصد بجلی نیوکلیئر یا جوہری ذریعے سے پیدا کی جاتی ہے۔
لیکن شدید گرمی کی لہر اور خشک سالی کی وجہ سے متعدد جوہری پلانٹس متاثر ہوئے ہیں جن کی پیداوار میں کمی واقع ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
بارش
چین کو ایک بلکل ہی مختلف نوعیت کے توانائی بحران کا سامنا ہے۔ روس سے تیل اور گیس کی فراہمی تو متاثر نہیں ہوئی، لیکن شدید گرمی اور خشک سالی کی وجہ سے چین بھی مسائل کا شکار ہے۔ دریا خشک ہو رہے ہیں اور پن بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں کمی ہوئی ہے۔
سیشوان صوبے میں، جو اسی فیصد بجلی ہائیڈرو الیکٹرک ڈیمز سے بناتا ہے، فیکٹریوں کو چھ دن کے لیے بند کرنا پڑا اور دفاتر، دکانوں کو بتیاں اور ایئر کنڈیشنر بند رکھنے کا حکم دیا گیا تاکہ بجلی کی کھپت میں کمی لائی جا سکے۔ ساتھ والے صوبے میں بھی کچھ ایسے ہی اقدامات اٹھانا پڑے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چین کے وزیر زراعت نے حال ہی مصنوعی بارش کے منصوبے کا اعلان کیا جس کے تحت بادلوں میں کیمیکلز چھوڑ کر بارش پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ یہ کیسے اور کہاں ہو گا، اس کی زیادہ تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
کم کام
پاکستان نے بھی توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے انوکھے طریقے نکللے ہیں۔
جون میں حکومت نے اپنے پہلے کے ایک اعلان کو واپس لیتے ہوئے سرکاری دفاتر میں چھ دن کی بجائے صرف پانچ دن کام کی پالیسی کو دوبارہ اپنایا۔
اس کے چند ہی ہفتے بعد گرمی کی شدت میں اضافہ ہوا جس سے قومی گرڈ سسٹم پر دباؤ بڑھا۔ دوسری جانب بڑھتی ہوئی قیمتوں نے بھی حالات کو پیچیدہ بنا دیا ہے اور اب منصوبہ بنایا جا رہا ہے کہ سرکاری ملازمین جمعے کے دن گھر سے ہی کام کریں۔
سکول کی چھٹی
بنگلہ دیش میں بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے جہاں سکول ہفتے میں دو دن بند رہیں گے اور سرکاری ملازمین کے دفتری اوقات کو ایک گھنٹہ کم کر دیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
واضح رہے کہ بنگلہ دیش مائع قدرتی گیس یعنی ایل این جی پر انحصار کرتا ہے جو اس وقت ایندھن کی مہنگی ترین قسم ہے۔ اس کو اپنے سے کہیں زیادہ وسائل رکھںے والے یورپی ممالک سے اس کی فراہمی کے لیے بھی مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔
جوہری حل
کچھ مقامات پر توانائی قیمتوں کے بحران نے فوسل فیولز جیسا کہ کوئلے کی واپسی کا راستہ کھول دیا ہے۔ انڈیا میں کوئلے کی درآمد جون میں انتہا کو چھو گئی تھی حالانکہ ماضی میں حکومت نے کوئلے کی درآمد میں کم کا منصوبہ بنایا تھا۔
دیگر ممکنہ حل پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ فوکوشیما پلانٹ حادثے کے 11 سال بعد جاپان میں سوچا جا رہا ہے کہ کیا نئے جوہری پلانٹس پر پیسہ لگایا جائے اور پرانے پلانٹس کو بحال کیا جائے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سورج
یہ بحران ایک موقع بھی ہے۔
فرانس میں ہوا سے توانائی پیدا کرنے کے منصوبوں میں اضافے پر غور ہو رہا ہے۔
جنوبی افریقہ اور چین میں حکومتیں عام لوگوں کو سولر سسٹم لگانے کا مشورہ دے رہی ہیں جن کے ذریعے ایک عام شخص حکومت کو بجلی بیچ بھی سکے گا۔











