آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ڈیٹنگ ایپس کے استعمال سے بڑھتی تھکن
اینڈی ہانگ کو ایسا لگتا ہے جیسے وہ دیٹنگ ایپ پر ایک ہی خاتون سے آن لائن ملتا رہتا ہے۔ اٹھائیس سالہ اینڈی ہانگ کا کہنا ہے کہ وہ اس طرح کی خواتین کے خلاف نہیں، لیکن ضروری نہیں کہ ان کے ساتھ اس کا کوئی تعلق بن سکے۔ وہاں ہر طرح کے لوگ موجود ہیں جن کے ساتھ وہ رومانوی تعلقات سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔
اینڈی باربار اس ایک ہی طرح کے پروفائلز دیکھ کر تھکتے جا رہے ہیں لیکن ڈیٹنگ ایپ ہنج (Hinge) انھیں ایک ’ٹائپ‘ کے لوگوں سے ملانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اور انھیں ایک طرح ہی پروفائلز ان کے سامنے آ رہے ہیں۔
اس تجربے نے اینڈی ہانگ کو تھکا دیا ہے جسے `ڈیٹنگ ایپ برن آؤٹ‘ گردانتے ہیں۔ ایپ کے ذریعے ڈیٹنگ کی دنیا میں یہ عام رجحان ہے۔ صارفین ممکنہ ڈیٹ کے نہ ختم ہونے والے سلسلے کو دیکھ کر مایوس ہو جاتے ہیں۔ ان کا دیٹنگ ایپس پر زیادہ وقت سکرولنگ میں ہی گذر جاتا ہے۔
آج کے دور میں سنگل لوگوں کے آن لائن ڈیٹنگ سے دور رہنا مشکل ہے، حالانکہ یہ کافی مشکل کام ہے اور بعض لوگوں کو وہاں مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
2019 کی ایک تحقیق کے مطابق رومانوی ساتھی ڈھونڈنے کے لیے آن لائن ڈیٹنگ کا استعمال بہت عام ہو گیا ہے۔
اس کے باوجود کہ آن لائن ڈینٹگ کے اثرات ہوتے ہیں، دو تہائی لوگ ممکنہ پارٹنر کی تلاش کے لیے ڈیٹنگ ایپس کا استعمال کرتے ہیں۔
ہنج کی ریسرچ کے مطابق ڈیٹنگ ایپس کو استعمال کرنے والے اس سے مغلوب ہو جاتے ہیں۔ اپریل 2022 کے ایک جائزے کے مطابق ہر پانچ میں سے چار لوگ آن لائن ڈیٹنگ سے تھک جاتے ہیں۔
ایسا لگتا ہے لوگ تمام مشکلات کے باوجود رومانوی پارٹنر کی تلاش کے لیے ڈیٹنگ ایپس کا استعمال کر رہے ہیں اور دنیا تیزی سے آن لائن کی طرف جا رہی ہے۔ اگر لوگ رومانوی ساتھی تلاش کرنے کے لیے ان ایپس کو استعمال کریں گے، تو ان کے استمعال کو آسان بنانا ہو گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بہت سی چیزوں سے گزرنا ہے
امریکہ، بالٹیمور میں اسپیس بیٹوین کونسلنگ سروسز میں لائسنس یافتہ گریجویٹ پروفیشنل کونسلر نورا پیڈیسن کہتی ہیں کہ ڈیٹنگ ایپ برن آؤٹ سے مراد وہ تھکن ہے جو ڈیٹنگ ایپ کے طویل استعمال سے آتی ہے۔
پیڈیسن جنھوں نے 25 سے 35 سال کی عمر کے بالغوں کے لیے دو جدید ڈیٹنگ سپورٹ گروپس تیار کرنے میں مدد فراہم کی ہے، کہتی ہیں کہ ڈیٹنگ ایپس کے استمعال سے تھکاوٹ کی چند بنیادی علامات ہیں: جب صارف میں ممکنہ ڈیٹ کے بارے میں منفی احساسات پیدا ہونے لگیں، جب ڈیٹنگ کے لیے ایپ کے استعمال سے تھکاوٹ ہونے لگے، اور جب ڈیٹنگ ایپس کا استمعال `دوسری نوکری` کی طرح محسوس ہونے لگے۔
یونیورسٹی آف الاباما میں کمیونیکیشن سٹڈیز کی ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر لیہ لی فیبرے کی تحقیق کے مطابق، انھوں نے 2017 میں جن 395 ٹنڈر صارفین کا سروے کیا ان میں سے نصف سے زیادہ نے ایپ کو متعدد بار ڈیلیٹ کر دیا تھا۔ ان میں تقریباً 40 فیصد کا کہنا تھا کہ چونکہ ان کا کسی سے تعلق قائم ہو گیا تھا جبکہ 35 فیصد ایسے تھے جنھوں نے خود کو ناکامی کے احساس سے بچانے کے لیے ایپ کو ڈیلیٹ کیا تھا۔
لی فیبرے نے ایک ای میل کے ذریعے بی بی سی کو بتایا کہ کچھ لوگ ایپ استعمال کرنے سے اکتا گئے ہیں اور کچھ نے اسے فضول سمجھتے ہیں۔
فلاڈیلفیا میں مقیم ایک 32 سالہ اسپیچ تھراپسٹ روزمیری گیزر کہتی ہیں میں بعض اوقات اس وقت تھک جاتی ہوں جب مجھے لگتا ہے کہ مجھے اپنی پسند کی تلاش کرنے کے لیے100 لوگوں کے درمیان سوائپ کرنا پڑے گا۔
مزید پڑھیے
روزمیری گیزر نے اپنے پہلے تعلق کے خاتمے کے بعد بمبل (Bumble) اور ہنج (Hinge) جیسی ایپس کا استعمال شروع کیا۔
ان کا ڈیٹنگ ایپس کے استعمال کا پہلا تجربہ 2013 اور 2014 میں اوکے کیوپڈ ( OkCupid) اور ٹنڈر (Tinder)کے ساتھ ہوا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ ایپس کو `کھولنے کے فوراً بعد` ان سے اکتانے لگتی تھیں۔
گیزر کہتی ہیں کسی کے ساتھ بات کرنے کا عمل، اس سے ملنے کی منصوبہ بندی کرنا اور پھر ان سے ملاقات کرنا، وقت طلب ہے۔ ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ ایپس پر چیٹنگ کرنا پسند نہیں کرتی کیونکہ تحریر پر مبنی گفتگو دوسرے شخص کی حقیقی تصویر پیش نہیں کرتی ہے۔
`ہو سکتا ہے آپ کی کسی کے ساتھ اچھی بات چیت ہو، لیکن پھر آپ ملتے ہیں اور 10 سیکنڈ کے اندر، آپ کو احساس ہوتا ہے کہ وہ کوئی ایسا نہیں ہے جسے آپ جاننا چاہتے ہیں۔‘
وہ کہتی ہیں، یہ وقت کا ضیاع ہے۔
ڈیزائن اور رویے کے مسائل
ڈیٹنگ ایپس کا ڈیزائن بھی صارفین میں مایوسی کا سبب ہو سکتا ہے۔
گیزر ان ایپس پر رقم کی ادائیگی والے فیچر سے بھی تنگ آ چکی ہیں۔
مثال کے طور پر، وہ کسی بھی ممکنہ میچ کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے اس کے سیاسی عقائد کو دیکھتی ہے۔ لیکن بمبل ایپ پر آپ کو اس طرح کے فیچر تک رسائی ادائیگی کرنی ہو گی۔ چونکہ وہ ادائیگی نہیں کر رہی ہے، اس لیے درجنوں ایسے پروفائلز کو دیکھنے پر مجبور ہوتی ہیں جن پر وہ دوسری نظر بھی ڈالنا نہیں چاہتی ہیں۔
متعدد ڈیٹنگ ایپس کو ایک ساتھ استعمال کرنا بھی مشکل ہے، لیکن بہت سے لوگ ایک سے زیادہ استعمال کرتے ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ اس سے ان کو ساتھی تلاش کرنے کے امکانات بہتر ہوتے ہیں۔ مختلف انٹرفیس کو دیکھنے سے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ گیزر کہتی ہیں `میں ایک ایپ کے انٹرفیس کی عادی ہو گئی ہوں، اور پھر میں دوسری ایپ پر جاتی ہوں تو غلطی سے ایسے شخص کو سوائپ کر دیتی ہوں جو مجھے پسند تھا یا میں اس کی مزید تصاویر دیکھنا چاہتی تھی۔ ‘
پھراپیس پر لوگوں سے بات کرنا بھی ایک چیلنج ہے۔ بعض لوگ آن لائن ڈیٹنگ ایپس پر بدتمیزی پر مائل نظر آتے ہیں۔
مثال کے طور پر، 2016 میں ڈیٹنگ پلیٹ فارم ’پلینٹی آف فش ‘کے ایک سروے میں سامنا آیا ہے کہ ڈیٹنگ ایپس پر اسی فیصد صارفین جعلی شناخت کے ساتھ وہاں موجود ہوتے ہیں اور انھیں بدتمیزی کرنے موقع مل جاتا ہے۔ وہ تقریباً آن لائن ڈیٹنگ گیم میں کردار بن جاتے ہیں۔
پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق، خاص طور پر خواتین کو ڈیٹنگ اییپس پر اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق، 35 سال سے کم عمر خواتین صارفین میں سے 44 فیصد کو برے ناموں سے پکارا جاتا ہے اور 19 فیصد کو ڈیٹنگ ایپس اور سائٹس پر جسمانی نقصان کی دھمکیاں ملتی ہیں۔
آسٹریلیا میں مقیم محقق اور ڈیجیٹل فلاح و بہبود پر توجہ مرکوز کرنے والی مصنف ڈاکٹر جوآن آرلینڈو، نے کہا کہ `میرے خیال میں لوگ اکثر آن لائن کو کھیل سمجھتے ہیںں جس کا مطلب ہے کہ تمام لوگ سنجیدگی سے ڈیٹنگ ایپس کو استعمال نہیں کرتے۔ ان دوسرے صارفین کے ساتھ رویہ ظالمانہ ہو سکتا ہے خواہ وہ جان بوجھ کر ایسا کریں یا غیر ارادی طور پر ان سے ایسا ہو جائے۔ آن لائن پر بار بار منفی سلوک کا سامنا کرنے والوں میں ڈیٹنگ ایپس کے بارے میں منفی احساسات پیدا ہو جاتے ہیں اور وہ ان ایپس سے اکتا جاتے ہیں۔‘
وہاں رہیں یا بریک لیں؟
ڈیٹنگ ایپس کے ان مسائل کے باوجود اینڈی ہانگ جیسے لوگ ان ایپس کو ترک نہیں کرتے ہیں۔
پیڈیسن کا کہنا ہے کہ `آپ [ڈیٹنگ ایپس] کا کسی حد تک ایمیزون یا فیس بک سے موازنہ کر سکتے ہیں کیونہ آپ کو وہاں تک بلاروک ٹوک رسائی حاصل ہے۔ ڈیٹنگ ایپس کا استعمال کرنا اب معمول بن گیا ہے، چاہے صارفین پلیٹ فارم پسند کرتے ہیں یا نہیں۔
پیڈیسن کا مزید کہنا ہے کہ کووڈ کی وبا نے لوگوں کو آن لائن بات چیت کی عادت ڈالی ہے اور بہت سے لوگ ڈیٹ حقیقی ڈیٹنگ سے پہلے ان کی جانچ پڑتال کرنے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔
رومانوی پارٹنر سے حقیقی طور ملاقات اتنی آسان نہیں ہے خاص ایسے لوگوں کے لیےجو شراب خانوں میں بیٹھنا پسند نہیں کرتے۔
پیڈیسن تجویز کرتی ہیں لوگوں سے براہ راست ملنے کے لیے گروپوں میں شمولیت زیادہ کار آمد ہو سکتی ہے۔
اینڈی ہانگ کہتے ہیں کہ انھوں نے ایک کیمونٹی گارڈن گروپ میں شمولیت اختیار کی ہے ۔`میں وہاں سب سے کم عمر شخص ہوں اور اس گروپ میں شریک دوسرے لوگوں کی عمریں مجھ سے کئی دہائیاں زیادہ ہیں۔ اس طریقے سے تو میں کسی (رومانوی پارٹنر)نہیں مل پاؤں گا۔‘
اینڈی ہانگ اسی لیے ڈیٹنگ ایپس پر اپنے تجربے کو زیادہ اچھا بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں ’ریڈ فلیگ ہنٹگ‘ کی کوشش کر رہا ہوں ریڈ فلیگ ہنٹگ کے ذریعے وہ ایسی پروفائلز دیکھنے سے بچ جاتے ہیں جن سے وہ نہیں ملنا چاہتے۔ لیکن یہ عمل بھی تھکا دینے والا ہے۔
’لوگوں کے بارے میں مسلسل رائے زنی کرنا ایک بارودی سرنگ ہے اور ذہنی طور پر تکلیف دہ عمل ہے۔‘
ڈیٹنگ ایپ بمبل کی تعلقات عامہ کی ماہر کیرولین ویسٹ کہتی ہیں کہ لوگوں زیادہ عزم کے ساتھ ڈیٹنگ ایپس کی طرف بڑھنا چاہیے۔
بمبل پر لوگوں کی اکثریت کا کہنا ہے کہ وہ اپنے پارٹنر سے کھل بات کرتے ہیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ وہ تجویز کرتی ہے کہ صارفین کو ایک وقت میں دو تین لوگوں سے زیادہ ملنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ بمبل ایپ میں ایک فیچر ہے کہ اگر کوئی ایپ کے استعمال سے اکتا گیا تو وہ اپنی تلاش کو ’سنوز‘ یا وقتی طور پر روک سکتا ہے اور اگر کوئی ان سے رابطہ کرنا چاہے تو اسے بھی معلوم ہو سکے گا کہ آپ نے وقفہ لے رکھا ہے۔
کچھ لوگوں کے لیے ڈیٹنگ کا وقفہ ان کی پریشانیوں کا حل ہے۔ پیڈیسن کا کہنا ہے کہ انھوں نے کچھ صارفین سے بات کی ہے جو ڈیٹنگ ایپ سے تنگ آ چکے ہیں اور ان کے لیے ایپ کو ڈیلیٹ کرنا ہی بہترین عمل ہے۔
گیزر نے ڈیٹنگ ایپس کو دیکھنا چھوڑ دیا ہے کیونکہ وہ کسی شخص سے ملاقاتیں کر رہی ہیں۔ وہ ابھی کسی رشتے میں نہیں ہیں، اس لیے وہ اب بھی اضافی پارٹنر کی تلاش جاری رکھ سکتی ہیں لیکن انھوں نے وقفہ لینا ہی بہتر جانا۔ گیزر جب ایپس کا استعمال کر رہی تھی، ان کا ذہن کافی پراگندہ تھا `اگر میں ان ایپس کا استعمال جارحانہ انداز میں نہیں کروں گی تو میں کبھی کسی کو تلاش نہیں کر پاؤں گی۔‘
ان تجربات نےگیزر کو سکھایا کہ اسے مقابلے کی حکمت عملی اپنانا ہو گی۔ وہ اپنے آپ سے سوال کرتی ہیں کہ کیا میرا وقت اچھا گذر رہا ہے یا میں اس ایپ کو اس لیے استعمال کر رہی ہوں کہ میں اکیلی ہوں اور پریشان ہوں۔
لیکن بد قسمی سے گیزر کے ان ڈیٹنگ ایپس پر زیادہ اچھے تجربات نہیں تھے پھر ایک ایسا وقت آیا جب انھوں نے سیکھ لیا کہ فون کا استعمال کیسے روکنا ہے۔