کامو اولیوا: زمین کے قریب اور سورج کے گرد چکر لگاتا پراسرار سیارچہ کیا چاند کا ٹوٹا ٹکڑا ہے؟

،تصویر کا ذریعہInpho
گذشتہ چند سالوں سے ’کامو اولیوا‘ نامی سیارچہ سائنس دانوں کے لیے ایک معمہ بنا ہوا ہے۔
سنہ 2016 میں دریافت ہونے والے اس سیارچے سے متعلق ماہر فلکیات کو اب تک صرف اتنا ہی معلوم ہو سکا تھا کہ اس کا مدار زمین سے کافی قریب ہے۔
لیکن حال ہی میں ہونے والی نئی تحقیق نے کچھ ایسے شواہد فراہم کیے ہیں جن کے بعد یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شاید یہ پُراسرار سیارچہ زمین کے چاند کا ہی ایک ٹکڑا ہے۔
ایریزونا یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ماہر فلکیات بینجیمن شارکی کہتے ہیں کہ ’کامو اولیوا کو دیکھ کر نہیں لگتا کہ یہ کوئی عام سیارچہ ہے۔‘
بینجیمن کے ساتھی سانچیز بھی اس تحقیق کا حصہ تھے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ عین ممکن ہے کہ کسی شہابی پتھر سے ٹکراؤ کے بعد چاند کی سطح سے ٹوٹ کر یہ سیارچہ معرض وجود میں آیا ہو۔
کیا یہ سیارچہ واقعی چاند کا ٹکڑا ہے؟
اس سوال کا حتمی جواب تو صرف اسی صورت میں مل سکتا ہے کہ اس کے نمونے لے کر اُن کا معائنہ کیا جائے۔ اور عین ممکن ہے کہ چند ہی سالوں میں ایسا ممکن بھی ہو جائے۔ لیکن سائنس دانوں کے پاس ایسی کئی وجوہات ہیں جن کے باعث وہ سمجھتے ہیں کہ اُن کا اس سیارچے کے بارے میں لگایا گیا اندازہ درست ہے۔
لیکن پہلے ہم یہ جانتے ہیں کہ یہ سیارچہ ہے کیسا؟
’جھولتا ہوا آسمانی ٹکڑا‘
چالیس میٹر لمبے کامو اولیوا نامی اس سیارچے کو پہلے ’ایچ او تھری 2016‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اسے امریکی ریاست ہوائی میں موجود پین سٹارز ون نامی ٹیلی سکوپ سے دریافت کیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہوائی کی مقامی زبان میں اس کا نام ’جھولتا ہوا آسمانی ٹکڑا‘ رکھا گیا۔

،تصویر کا ذریعہNASA/JPL-Caltech
زمین کے جیسے مدار میں گردش کے باعث تکنیکی اور سائنسی اعتبار سے اسے چاند کی بجائے ایک ثانوی سیارچے کی حیثیت دی گئی ہے۔
اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ یہ سیارچہ زمین کے گرد نہیں گھومتا بلکہ زمین کی مانند سورج کے گرد چکر لگاتا ہے۔
یعنی اگر زمین اپنا مدار چھوڑ بھی دے تو یہ سیارچہ اپنے مدار میں سورج کے گرد ہی گھومتا رہے گا۔
یہ بھی پڑھیے
سائنس دانوں نے اب تک ایسے پانچ ثانوی سیارچے دریافت کیے ہیں لیکن کامو اولیوا وہ پہلا سیارچہ ہے جس کا جائزہ لینا ممکن نظر آتا ہے۔
سانچیز کہتے ہیں کہ اپریل کے مہینے میں اس سیارچے کو بڑی ٹیلی سکوپ کی مدد سے زمین سے آرام سے دیکھا جا سکتا ہے جب کہ دوسرے ایسے ہی سیارچے ٹیلی سکوپ کی حد نگاہ سے بھی دور ہیں۔
کیا یہ سیارچہ واقعی چاند کا ٹکڑا ہے؟
اس سیارچے کے تجزیے کے دوران سائنس دانوں نے دیکھا کہ اس کی رنگت غیر معمولی حد تک سرخ ہے جو غالبا دھاتی معدنیات کی موجودگی کے باعث ہے۔
سانچیز کہتے ہیں کہ آسان زبان میں یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ ہم نے اس سیارچے پر پڑنے والی سورج کی شعاعوں کی روشنی میں یہ دیکھنے کی کوشش کی کہ یہ کس چیز کا بنا ہو اہے تو ہمیں معلوم ہوا کہ اس میں ’سیلیکیٹ‘ معدنیات پائے جاتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’جس بات نے ہماری توجہ حاصل کی وہ یہ تھی کہ اس سیارچے کی شکل چاند کی سطح سے زیادہ ملتی جلتی ہے۔‘
سائنس دانوں نے اس بات کا اندازہ یوں بھی لگایا کہ اس سے ملتا جلتا ایک پتھر 1970 کی دہائی میں چاند پر بھیجے جانے والے اپالو مشن بھی لے کر لوٹا تھا۔
مزید پڑھیے
سانچیز کہتے ہیں کہ ہماری توجہ اس جانب اس لیے مرکوز ہوئی کیوں کہ ہم نے پہلی بار ایسی کوشش کی ہے جس میں ہم نے زمین سے نہایت قریب سورج کے گرد چکر لگانے والے ایک سیارچے کا بغور جائزہ لیا ہے اور ہمیں یہ شک ہے کہ یہ ہمارے چاند کا ہی ایک ٹکڑا ہو سکتا ہے۔
لیکن اس پراسرار سیارچے سے متعلق چند اور نظریات بھی موجود ہیں جن میں سے ایک کا ماننا ہے کہ یہ ایک ٹروجن سیارچہ ہے جس کا زمین یا سورج سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ٹکڑا نما سیارچہ زمین کے قریب پائی جانے والی کسی اور چیز کا حصہ ہو سکتا ہے۔
ان تمام نظریات کے باوجود اس سیارچے پر ہونے والی نئی تحقیق سے جڑے ماہر فلکیات کا ماننا ہے کہ ان کے حاصل کردہ شواہد ان کی تھیوری کا وزن بڑھا دیتے ہیں۔.

،تصویر کا ذریعہTony873004
سانچیز کہتے ہیں کہ وہ فی الحال سو فیصد یقین سے تو یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کیوںکہ عین ممکن ہے کہ یہ سیارچہ کسی اور بڑے سیارچے سے ٹوٹ کر بنا ہو لیکن حتمی فیصلہ اسی وقت ہو سکے گا جب اس کی سطح کے نمونے حاصل ہو سکیں گے۔
مستقبل قریب میں ایسا ہونا عین ممکن ہے۔
چین کے ایک منصوبے کے تحت اسی دہائی میں ایک ایسا روبوٹک مشن خلا میں بھیجا جائے گا جو اس سیارچے کی سطح پر جا کر وہاں سے نمونے حاصل کر سکے گا۔
اگر ایسا ہوا تو اس سوال کا جواب مل جائے گا کہ یہ سیارچہ چاند کا ہی ٹکڑا ہے یا کچھ اور۔








