اونلی فینز: عریانیت کے لیے مشہور ویب سائٹ کا جنسی مواد پر پابندی کا اعلان

بالغوں کے لیے مواد شائع کرنے والی مشہور ویب سائٹ اونلی فینز (Only Fans) نے اعلان کیا ہے کہ یکم اکتوبر سے وہ اپنے پلیٹ فارم پر جنسی مواد، چاہے وہ تصاویر ہوں یا ویڈیوز، شائع کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

تاہم انھوں نے کہا کہ اس پالیسی کے اطلاق کے بعد بھی لوگ برہنہ تصاویر شائع کر سکیں گے بشرطیکہ کہ وہ اونلی فینز کی پالیسیوں کے مطابق ہوں۔

اونلی فینز کی جانب سے یہ اعلان بی بی سی کی ایک تحقیق کے بعد سامنے آیا جس میں کمپنی سے لیک ہونے والی چند دستاویزات کے حوالے سے سوالات کیے گئے تھے جو ان اکاؤنٹس کے بارے میں تھے جنھوں نے اونلی فینز پر غیر قانونی مواد شائع کیا تھا۔

اونلی فینز کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ان کی پالیسی میں تبدیلی ان کے بینکنگ شراکت داروں کی جانب سے دباؤ کے باعث کی گئی ہے۔

گذشتہ برس کورونا وبا کے باعث اونلی فینز کے صارفین کی تعداد میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا تھا اور ان کا کہنا ہے کہ اب ان کے ایک کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ صارفین ہیں۔

اونلی فینز نے اپنے بیان میں کہا: 'ہمارے پلیٹ فارم کی طویل مدتی صحت کو یقینی بنانے کے لیے اور اپنے پلیٹ فارم پر مواد شائع کرنے والوں کی ایک متنوع کمیونٹی قائم رکھنے کے لیے ہمیں اپنی پالیسیوں کو بہتر بنانا ہوگا۔'

لندن سے چلنے والی ویب سائٹ پر صارفین عریانیت پر مبنی ویڈیوز اور تصاویر شائع کر سکتے ہیں اور اس کے عوض دیکھنے والے صارفین سے ماہانہ فیس وصول کر سکتے ہیں۔

گو کہ اس پلیٹ فارم پر ہر قسم کا مواد شائع کیا جا سکتا ہے جیسے کھانا بنانا یا فٹنس کے متعلق ویڈیوز بنانا لیکن اونلی فینز کی اصل مقبولیت وہاں پر موجود جنسی اور فحش مواد ہے۔

اس مواد کو اپنے پلیٹ فارم پر جگہ دینے کے عوض اونلی فینز مواد شائع کرنے والے صارفین کو ملنے والی فیس کا 20 فیصد حصہ لیتا ہے۔

جمعرات کو اونلی فینز کی جانب سے کیا گیا اعلان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب بی بی سی نے کمپنی سے رابطہ کیا تھا اور ان سے لیک ہونے والی اُن دستاویزات کے حوالے سے سوالات کیے جو ان غیر قانونی مواد شائع کرنے والے اکاؤنٹس کے بارے میں تھے۔

لیک ہونے والی یہ دستاویزات ظاہر کرتی ہیں کہ غیر قانونی مواد کو اونلی فینز سے حذف کردیا جاتا ہے تاہم کمپنی اس مواد کو شائع کرنے والے صارفین کو ان کا اکاؤنٹ بند کرنے سے قبل متعدد بار تنبیہ دیتی ہے۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

ماہرین کہتے ہیں کہ اس طرز عمل سے لگتا ہے کہ اونلی فینز غیر قانونی مواد شائع کرنے والے صارفین کے لیے 'تحمل' کا مظاہرہ کرتی ہے۔

بی بی سی کی جانب سے کی گئی تحقیق کے بارے میں جواب دیتے ہوئے اونلی فینز کا کہنا تھا کہ لیک ہونے والی دستاویزات 'باضابطہ گائیڈ نہیں ہیں اور نہ ہی کمپنی اپنی پالیسیوں کے خلاف ورزی پر تحمل سے کام لیتی ہے اور وہ صارفین کی عمر کی تصدیق کرنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھاتی ہے جو کہ عالمی معیار سے کہیں زیادہ سخت ہے۔'

اونلی فینز کی ویب سائٹ 2016 میں قائم کی گئی تھی اور ماضی میں بھی اس کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے جب بی بی سی نے ایک تحقیق میں ثابت کیا کہ 18 برس سے کم عمر کے صارفین جعلی شناخت کی مدد سے ویب سائٹ پر اکاؤنٹ بنانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

اس سال جون میں بی بی سی نے یہ دریافت کیا کہ 18 سال سے کم عمر کے صارفین اونلی فینز پر جنسی مواد کی فروخت کر رہے تھے حالانکہ یہ ویب سائٹ کی پالیسی کے برخلاف تھا۔

بی بی سی کے تحقیق کے بعد انگلینڈ میں بچوں کے کمیشن نے کہا کہ اونلی فینز کو اپنے پلیٹ فارم پر مزید کام کرنا ہوگا تاکہ کم عمر افراد اسے استعمال نہ کر سکیں۔

اس تحقیق کے بعد اونلی فینز کا کہنا تھا کہ انھوں نے مشتبہ اکاؤنٹس کو معطل کر دیا ہے اور اس سے مواد خریدنے والے صارفین کو ان کی رقم واپس کر دی ہے۔

جولائی میں اونلی فینز کی جانب سے شائع کی گئی شفافیت رپورٹ میں بتایا گیا کہ انھوں نے 15 ایسے اکاؤنٹس پر پابندی لگا دی ہے جہاں پر بچوں کی نامناسب تصاویر تھیں۔