آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پورن ہب کے خلاف 40 خواتین کا مقدمہ
ویب سائٹ پورن ہب کے خلاف 40 خواتین نے مقدمہ دائر کر دیا ہے جس میں انھوں نے ویب سائٹ پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے مواد دینے والے ایک پارٹنر کی ویڈیوز سے منافع کمایا جو درحقیقت سیکس ٹریفکنگ کا آپریشن چلا رہا تھا۔
یہ تمام خواتین 'گرلز ڈو پورن' کے آپریشن کا نشانہ بنیں تھیں اور اس کے مالکان کو امریکی حکام کی جانب سے بھی مقدمات کا سامنا ہے۔
ان خواتین نے الزام عائد کیا ہے کہ پورن ہب اور اس کی مرکزی کمپنی 'مائنڈ گیک' کو معلوم تھا کہ 'گرلز ڈو پورن' کا آپریشن کیا تھا لیکن اس کے باوجود انھوں نے شراکت قائم رکھی۔
اسی حوالے سے مزید پڑھیے
پورن ہب کے خلاف یہ مقدمہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب ویب سائٹ کو ایک اور مسئلے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس میں غیر قانونی مواد کی وجہ سے پیدا ہونے والے سکینڈل کے باعث ویب سائٹ کو صارفین کی جانب سے رقم ادائیگی کا سلسلہ بند ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آن لائن ادائیگی کے ادارے ماسٹر کارڈ اور ویزا نے پورن ہب سے قطع تعلق کر لیا ہے اور اس کی وجہ بنی تھی امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی ایک تحقیقی رپورٹ جس میں بتایا گیا کہ پورن ہب پر بچوں کے ساتھ جنسی تشدد اور ریپ سے متعلق مواد شائع کیا جاتا ہے۔
امریکی اخبار کی تحقیق سے قبل بی بی سی نے بھی تحقیق کی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ پورن ہب پر بچوں کا ریپ کرنے والی ویڈیو کو بار بار ڈالا گیا اور اس کی وجہ سے اس بچے کی زندگی پر کیا اثر پڑا۔
ادائیگی کا سلسلہ بند ہونے کے بعد سے پورن ہب کے پاس صرف کرپٹو کرنسی کے ذریعے ادائیگی کا راستہ بچا ہے۔ واضح رہے کہ پورن ہب دنیا میں پورن مواد کے لیے سب سے زیادہ مقبول ویب سائٹس میں سے ایک ہے۔
مقدمہ ہے کس بارے میں؟
مقدمہ درج کرنے والی خواتین نے ٹرائل اور فی کس دس لاکھ ڈالر کا مطالبہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ گرلز ڈو پورن اکتوبر 2019 تک مائنڈ گیک کے پارٹنر پروگرام میں ان کے ساتھ تھے جب امریکی محکمہ انصاف نے ان کو بند کر دیا اور ان کے سینئیر اہلکاروں کو حراست میں لے لیا۔
اس کے فوراً بعد پورن ہب اور مائنڈ گیک کے زیر انتظام چلنے والی دیگر ویب سائٹس نے گرل ڈو پورن کا چینل ختم کر دیا لیکن درخواست گزار خواتین نے الزام لگایا ہے کہ 'اس موقع پر مائنڈ گیک کے پاس ایسا کوئی پارٹنر ہی نہیں تھا جس کے ساتھ وہ شراکت قائم کرتے۔'
ان خواتین کا کہنا ہے کہ انھوں نے جون 2016 کے بعد سے متعدد بار پورن ہب اور مائنڈ گیک سے رابطہ کیا اور اپنی شکایات کے بارے میں بتایا لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔
عدالت میں جمع کرائے گئے دستاویزات کے مطابق 'کم از کم 2009 سے لے کر اور پھر 2016 کے آخر میں تو یقینی طور پر مائنڈ گیک کو معلوم تھا کہ گرلز ڈو پورن کیسے خواتین کے ساتھ دھوکہ دہی اور زبردستی اور ڈرا دھمکا کر ان کے ساتھ ٹریفکنگ کروا رہا تھا۔ تاہم اس معلومات کے باوجود مائنڈ گیک نے اپنی شراکت قائم رکھی اور کبھی اس بارے میں تحقیق کرنا گوارا نہیں کیا۔'
خواتین کی جانب سے کہا گیا کہ کمپنی کو قطعی کوئی پروا نہیں تھی جب تک کے ان کا منافع ختم نہ ہوا۔ انھوں نے مزید کہا کہ سیکس ٹریفکنگ کے الزامات لگنے کے باوجود ویڈیوز ویب سائٹ پر چند دن قبل تک موجود تھیں۔
مائنڈ گیک سے جواب لینے کے لیے رابطہ کیا گیا ہے۔
گرلز ڈو پورن پر کیا الزامات عائد کیے گئے ہیں؟
عدالتی دستاویزات کے مطابق بتایا گیا ہے کہ گرلز ڈو پورن ماڈلنگ کے اشتہارات کے ذریعے لڑکیوں کو بلاتے اور بعد میں انھیں بتایا جاتا کہ وہ اشتہار دراصل پورن ویڈیو کے لیے ہے۔
لڑکیوں کو ترغیب دینے اور یقین دلانے کی غرض سے ان کو بتایا جاتا کہ اس کام میں ان کی شناخت راز رکھی جائے گی اور اس ویڈیو کو آن لائن شائع نہیں کیا جائے گا۔ لیکن حقیقت یہ تھی کہ یہ ویڈیوز بنائی ہی اس مقصد کے لیے گئی تھیں کہ انھیں شمالی امریکہ میں انٹرنیٹ پر دکھایا جائے۔
درخواست گزار خواتین میں سے چند کا کہنا ہے کہ ان پر جسمانی اور جنسی تشدد بھی ہوا اور ایک نے الزام لگایا ہے کہ ان کے ساتھ ریپ کیا گیا ہے۔