آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کووڈ 19: وبا کے ڈیڑھ برس بعد ہم اس وائرس کے بارے میں مزید کیا جان پائے ہیں؟
- مصنف, امیلیا بٹرلی
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
جب سے عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کووڈ 19 کو عالمی وبا قرار دیا اس وقت سے لے کر اب تک ہم نے وائرس کو سمجھنے اور اس سے نمٹنے کے لیے بے مثال سائنسی کوششیں دیکھی ہیں۔
تحقیق اور ویکسین تیار کرنے کے معاملے میں پوری دنیا کے محققین نے ایک ساتھ مل کر پہلے کبھی ایسا کام نہیں کیا جیسا انھوں نے کووڈ کے معاملے میں کیا ہے اور جس کام کو کرنے میں سالوں لگتے انھیں مہینوں میں حاصل کیا۔
گذشتہ 12 مہینوں میں ہم نے جو چیزیں سیکھیں وہ اس طرح ہیں:
کووڈ 19 کی علامات
ابتدائی طور پر کہا گیا تھا کہ بخار اور کھانسی اس کی علامات ہیں۔ لیکن پھر جلد ہی اس بیماری میں مبتلا بہت سے لوگوں نے محسوس کیا کہ وہ اپنی قوت شامہ اور اور حسِ ذائقہ کھو رہے ہیں اور پھر اسے اس بیماری کے متعلق ڈبلیو ایچ او کی عام علامات کی فہرست میں شامل کر لیا گیا۔
جوں جوں وبائی مرض میں اضافہ ہوتا رہا دوسری کم عام علامات بھی سامنے آئیں جن میں میں مندرجہ ذیل علامات شامل ہیں:
- گلے کی سوزش
- سر درد
- درد
- دست
- جلد پر سرخ دانے آنا یا انگلیوں اور انگوٹھوں کے رنگ کا بدلنا
- سرخ دیدے یا آنکھوں میں خارش
ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ جو لوگ بہت بیمار ہیں فوری طبی امداد حاصل کریں۔ سنگین علامات میں سانس لینے میں دشواری، قوت گویائی یا نقل و حرکت میں کمی، بے چینی یا سینے میں درد وغیرہ شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہم جانتے ہیں کہ پہلے سے بیمار لوگ اس کی زد میں آ کر سخت بیمار ہو سکتے ہیں اور جن لوگوں کو پہلے سے پھیپھڑوں میں شکایت ہے یا سی او پی ڈی ہے یا پھر انھیں ذیابیطس امراض قلب یا کینسر ہے ان کا اس وبائی بیماری کی زد میں آنا تشویشناک ہو سکتا ہے۔ اس لیے عالمی ادارۂ صحت ایسے مریضوں کو وائرس سے بچنے کے لیے حفاظتی اقدامات کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔
اگرچہ زیادہ تر مریضوں کے تیزی سے صحت یاب ہونے کے امکانات زیادہ ہیں لیکن تحقیقی مطالعوں سے پتا چلتا ہے کہ کچھ لوگوں میں کووڈ 19 کی وجہ سے دل اور پھیپھڑوں سمیت دوسرے اعضاء کو طویل مدتی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
کووڈ 19 کا پھیلاؤ
وبائی مرض کے پہلے چند مہینوں کے دوران ڈبلیو ایچ او کا اس بات پر اصرار تھا کووڈ 19 لوگوں کے کھانسنے یا چھینکنے سے منتقل ہوتا ہے نہ کہ وہ ہوا میں رہتا ہے اور اس کے ذریعے بھی پھیل سکتا ہے۔
اسی وجہ سے ہاتھ دھونے کو روک تھام کے اہم اقدام کے طور پر بیان کیا گیا کہ متاثرہ افراد کے سطحوں اور اشیاء کو چھونے سے یہ وائرس پھیل سکتا ہے۔
لیکن برٹش میڈیکل جرنل کے ایک حالیہ مضمون سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ سارس کوو-2 سطحوں کو چھونے کے مقابلے میں سانس لینے سے کہیں زیادہ پھیلتا ہے۔
تازہ ترین شواہد سے پتا چلتا ہے کہ کووڈ 19 بنیادی طور پر قریب فاصلے پر لوگوں کے درمیان ایروسول یعنی ہوا میں موجود آبخرات کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ یہ خاص طور پر گھر کے اندر، بھیڑ میں اور ناقص ہوادار جگہوں پر ہوسکتا ہے جہاں ایک یا اس سے زیادہ متاثرہ افراد دوسروں زیادہ وقت گزارتے ہیں۔
یہ وجہ ہے کہ ہماری زندگیوں میں بہت سی پابندیاں عائد کی گئی ہیں کہ ہم بند جگہوں پر زیادہ لوگوں سے نہ ملیں۔
کووڈ 19 کی ویکسینز کا اثر نظر آتا ہے
ٹیکہ لگانے سے برطانیہ میں کووڈ 19 کے مریضوں کے ہسپتال میں داخل ہونے کی تعداد پر مثبت اثر پڑ رہا ہے۔
تقریباً دو تہائی آبادی کو ویکسین کی کم از کم ایک خوراک دے دی گئی ہے اور اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ ویکسین کے بعد ہسپتالوں میں داخلے اور اموات کی شرح کم ہونے کے ساتھ ساتھ لوگوں میں مرض پھیلنے میں بھی کمی آئی ہے۔
برطانیہ میں حکومت کے ایک سائنسی مشیر پروفیسر کیلم سیمپل کا کہنا ہے کہ ’یہ واقعی دنیا بھر سے حقیقی ڈیٹا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ویکسین کام کرتی ہے اور ایک خوراک بھی واقعی بہتر کام کرتی ہے۔‘
عام طور پر ایک ویکسین بنانے میں 10 سال لگ سکتے ہیں لیکن فائزر، موڈرنا اور ایسٹرا زینیکا کو کووڈ 19 ویکسین کی تیاری میں اس کا عشر عشیر وقت لگا ہے اور اس کا سہرا نئی ٹیکنولوجی، فنڈنگ میں اضافے اور بیوروکریسی میں کمی کو جاتا ہے۔
لیکن ویکسینز کی تیاری میں صرف مہینوں کا وقت لگنے کے باوجود اسے حاصل کرنے میں بہت سے لوگوں کو برسوں انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔
بہرحال جب ویکسین کی تقسیم کی بات کی جاتی ہے تو عالمی سطح پر اس میں بہت حد تک عدم مساوات پایا جاتا ہے اور ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں امیر اور غریب ممالک کے مابین ’چونکانے والا عدم توازن‘ ہے۔
اگرچہ ویکسینیشن یقینی طور پر وائرس سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے لیکن یہ وائرس سے مستقل دفاع فراہم نہیں کر سکتی کیونکہ وقت کے ساتھ اینٹی باڈیز یعنی قوت مدافعت کم ہوتی جاتی ہے۔
کووڈ آپ کو طویل عرصے تک زیادہ بیمار کرسکتا ہے
وائرس سے متاثر ہونے کے مہینوں بعد کافی تعداد میں ایسے لوگ ہیں جو اب بھی مختلف قسم کی علامات کا سامنا کر رہے ہیں اور انھیں طویل کووڈ کہا جاتا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ سے کم از کم 10 میں سے ایک فرد انتہائی تھکاوٹ، سر درد، سینے میں درد اور افسردگی کا شکار ہو سکتا ہے۔
وبائی مرض کے آغاز میں لوگوں کی شکایات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا اور سائنسدانوں کو ابھی تک معلوم نہیں ہے کہ اس کا اثر کچھ مریضوں پر دوسروں کے مقابلے میں زیادہ کیوں ہوتا ہے۔
سائنسدان کووڈ 19 کے طویل مدتی اثرات کا مطالعہ کر رہے ہیں اور حال ہی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ان لوگوں کو جنھیں ہلکا انفیکشن بھی ہوا ہے ان میں چھ ماہ کے دوران سخت بیمار پڑنے یا مرنے کا خطرہ زیادہ ہے۔
سینٹ لوئس کی واشنگٹن یونیورسٹی میں میڈیسن کے اسسٹنٹ پروفیسر اور سینیئر مصنف زیاد العالی کا کہنا ہے کہ ’یہ دیکھتے ہوئے کہ طویل کووڈ 19 کے اثرات دیرپا ہیں جو کہ کئی برسوں یا دہائیوں تک پائے جا سکتے ہیں۔
’معالجین کو ان لوگوں کی تشخیص کرنے میں چوکنا رہنا چاہیے جن کو کووڈ 19 ہوا تھا۔ ان مریضوں کو مربوط، کثیر الضابطہ نگہداشت کی ضرورت ہو گی۔‘
وائرس کی نئی اقسام زیادہ تیزی سے منتقل ہو سکتی ہیں
دنیا میں پھیلی ہوئی کووڈ کی ہزاروں مختلف اقسام ہو سکتی ہیں۔
اس کی توقع کی جاسکتی ہے کہ چونکہ وائرس پھیلنے کے لیے اپنی نقول خود بناتے ہیں اور اس سلسلے میں اپنی ہیئت کو تبدیل کر لیتے ہیں۔ اکثر ان تبدیلیوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن بعض اوقات کوئی تبدیلی وائرس کو زیادہ خطرناک یا متعدی بنا دیتی ہے۔
برطانیہ، جنوبی افریقہ، برازیل اور انڈیا میں وائرس کی سپائک پروٹین میں تبدیلیاں آئیں۔ یہ وائرس کا ایک حصہ ہے جو انسانی خلیوں سے منسلک ہوتا ہے۔
مثال کے طور پر این 501 وائی وائرس خلیوں کو متاثر کرنے اور پھیلنے میں زیادہ تیز ہے۔ جبکہ برطانیہ میں پیدا ہونے والی قسم بی 7۔1۔1 کے متعلق تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس میں موت کا 30 فیصد زیادہ خطرہ ہے۔
تاہم اس کا ثبوت حتمی نہیں ہے۔
بچوں کو سنگین بیماری کا خطرہ کم ہوتا ہے
بچے کووڈ 19 کی زد میں آ سکتے ہیں لیکن شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ بڑوں کے مقابلے میں ان کے شدید طور پر بیمار ہونے کے امکانات کم ہیں اور ابھی تک ایسا لگتا ہے کہ ان سے وائرس کے پھیلنے کا امکان بھی کم ہے۔
سائنسدان یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا روزانہ ابھرتی ہوئی نئی اقسام کے نوجوانوں میں وائرس کی منتقلی کا زیادہ امکان تو نہیں ہے۔
پچھلے مہینے یہ بات سامنے آئی کہ فروری سنہ 2020 اور 15 مارچ 2021 کے درمیان برازیل میں کووڈ 19 سے کم از کم 852 بچے ہلاک ہوئے جن میں ایک سال سے کم عمر کے 518 بچے بھی شامل ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کووڈ کیسز کی بڑی تعداد (یعنی دنیا کی دوسری بڑی تعداد) نے اس امکان میں اضافہ کیا ہے کہ برازیل میں بچے اور کم عمر بچے بھی متاثر ہوئے ہیں۔
برازیل کے معاملے میں جانچ کی کمی، بچوں میں دست اور پیٹ درد جیسی دوسری علامتوں کے ساتھ ساتھ صحت کے شعبے میں کفایتی دیکھ بھال کا فقدان بھی شامل ہے۔
رواں سال کے شروع میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق وائرس کے بالواسطہ اثرات بھی بچوں پر بڑے پیمانے پر اثرات مرتب کر رہے ہیں اور کووڈ 19 کی وجہ سے صحت کی شعبے پر اثرات پڑے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں تقریباً دو لاکھ 40 ہزار ماں اور بچے کی موت ہوئی ہے۔
اس بات کا امکان ہے کہ کووڈ 19 ہمارے ساتھ رہے
جب سائنسی جریدے نیچر نے 100 امیونولوجسٹس، متعدی بیماریوں کے محققین اور کووڈ 19 پر کام کرنے والے وائرولوجسٹس سے پوچھا کہ کیا اس کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے تو تقریباً 90 فیصد نے کہا کہ ان کے خیال میں یہ مقامی وبائی بیماری بن کر رہے گی۔
ان کا خیال ہے کہ وائرس آنے والے برسوں تک ’عالمی آبادی کے مختلف حصوں میں گردش کرتا رہے گا۔‘
لیکن اگرچہ ہمیں کووڈ 19 کے ساتھ رہنا پڑ سکتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہمیشہ موت اور انفیکشن کی وہی شرح رہے گی جو ہم نے گذشتہ ایک سال کے دوران دیکھی ہے۔
انفلوئنزا ہر سال اب بھی لاکھوں جانیں لیتا ہے لیکن ایک معاشرے کی حیثیت سے ہم نے اس بیماری کو برداشت کرنا سیکھ لیا ہے۔ اور کووڈ اس کی طرح کی بیماری بن کر رہ سکتا ہے جو کہ وقفے وقفے سے کسی معاشرے میں سر ابھار سکتا ہے اور لوگ اس کی زد میں ایک سے زیادہ بار آ سکتے ہیں۔
اپنی اور دوسروں کی حفاظت کا بہترین طریقہ
وبائی مرض کے آغاز میں کووڈ 19 کے اثرات کو کم کرنے کا کوئی مستقل طریق کار نہیں تھا اور دنیا بھر کی حکومتیں اپنے شہریوں کو مختلف مشورے پیش کرتی تھیں۔ لیکن ڈبلیو ایچ او اب ان اقدامات پر واضح ہے کہ آپ کو سلامت رہنے کے لیے کیا کرنا ہے۔
کم سے کم ایک میٹر کی جسمانی دوری قائم رکھنا، اپنی ناک اور منہ پر ماسک پہننا اور ہاتھ دھونے کی حیثیت کلیدی ہے۔
آپ کو کمروں کو اچھی طرح سے ہوا دار رکھنے اور بھیڑ والی جگہوں سے پرہیز کرنے کی بھی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر آپ کو کھانسی آئے تو اپنی کہنیوں سے یا پھر رومال سے ڈھک کر کھانسی کریں۔
اور اگر آپ کو ویکسین ملے تو آپ جلد سے جلد اسے لیں کیونکہ ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ 'منظور شدہ کووڈ 19 کی ویکسین اس بیماری سے شدید طور پر بیمار ہونے اور مرنے سے حفاظت فراہم کرتی ہے۔'
کووڈ 19 کے بارے میں ہم ابھی بھی بہت کچھ نہیں جانتے ہیں
اگرچہ کووڈ 19 پر غیر معمولی سائنسی تحقیق ہوئی ہے لیکن اب بھی ہمیں وائرس کے بارے میں بہت کچھ نہیں پتا ہے، خاص طور پر جب ایسے موضوعات کی بات کی جاتی ہے ہم بڑی تعداد میں اس سے بچنے کے لائق کب ہوں، کچھ لوگ دوسروں سے کم بیمار کیوں ہوتے ہیں، یا پھر وائرس انسانوں میں کس طرح پھیلا۔
ابھی تو یہی بتانا مشکل ہے کہ اس بیماری سے قوت مدافعت کب تک برقرار رہے گی، یا یہ کہ آیا ویکسین کے ذریعہ پیدا ہونے والے تحفظ اور انفیکشن کے بعد پیدا ہونے والے تحفظ میں کوئی فرق ہے۔
ابھی تو ہم یہ بھی نہیں جانتے ہیں کہ ایک شخص کتنی بار کووڈ 19 کی زد میں آسکتا ہے یا یہ کہ دوسری بار ہونے والا انفیکشن کم شدت کا ہو گا۔
محققین ان تمام چیزوں کا مطالعہ کر رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ دنیا کے مختلف حصوں میں بدلتے ہوئے اس وائرس کی جینیاتی ترتیب کو بھی جاننے کی کوشش میں لگے ہیں۔
امید ہے کہ ان کی کوششیں ہمیں مستقبل میں وائرس اور اس کی مختلف اقسام سے نمٹنے میں بہتر طور پر تیار رہنے میں مدد فراہم کریں گی۔