آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ملیریا کی پہلی انتہائی مؤثر ویکسین بنا لی گئی
- مصنف, فلیپا روکسبی
- عہدہ, ہیلتھ رپورٹر
آکسفورڈ یونیورسٹی کی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اپنے ابتدائی مراحل میں 77 فیصد مؤثر ثابت ہونے والی میلیریا کی ایک ویکسین اس بیماری کے خلاف جنگ میں بہت بڑی کامیابی دے سکتی ہے۔
اس وقت ملیریا سے ہر سال چار لاکھ افراد ہلاک ہوتے ہیں، ہلاک ہونے والوں میں افریقی صحرائے اعظم کے جنوبی علاقے (سب صحارن افریقہ) سے تعلق رکھنے والے بچوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوتی ہے۔
تاہم گزشتہ برسوں میں کئی قسم کی ویکیسنز کے استعمال کے باوجود کسی کو بھی اتنی کامیابی حاصل نہیں ہوئی جتنی کہ درکار تھی۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ نئی ویکسین کا صحتِ عامہ پر بہت اچھا اثر مرتب ہو سکتا ہے۔
جب برکینا فاسو میں 450 بچوں پر تجربہ کیا گیا تو یہ ویکسین ان کے لیے محفوظ تھی اور اس کا اگلے بارہ مہینوں کے دوران ان پر اثر برقرار رہا۔
ان نتائج کی مزید تصدیق کے لیے براعظم افریقہ کے چار ممالک میں پانچ ماہ سے لے کر تین برس کے 5000 بچوں پر اس کے مزید ٹیسٹ کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ملیریا ایک مہلک بیماری ہے جو انسانوں میں مچھروں کے کاٹنے کی وجہ سے پھیلتی ہے۔ اگرچہ اس کا تدارک کیا جا سکتا ہے تاہم صحت کا عالمی ادارہ کہتا ہے کہ سنہ 2019 میں اِس سے تقریباً 23 کروڑ افراد متاثر ہوئے تھے اور چار لاکھ نو ہزار اموات ریکارڈ کی گئی تھیں۔
اس بیماری کے لگنے کے بعد ابتدا میں بخار ہوتا ہے، پھر سر درد محسوس ہوتا ہے، سردی محسوس ہوتی اور علاج نہ کیے جانے کی صورت میں 'یہ سنگین صورت اختیار کرسکتی ہے اور موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔'
’ویکسین کا زبردست فائدہ
آکسفورڈ یونیورسٹی کے شعبہِ ویکسیونولوجی کے پروفیسر اور جینر انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر، ایڈرین ہِل جو اس ویکسین کی ریسرچ کے شریک مصنف بھی ہیں، کہتے ہیں کہ یہ پہلی ویکسین ہے جو صحت کے عالمی ادارے کی کم از کم موثر ہونے کی 75 فیصد شرح تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی ہے۔
اب تک ملیریا کے لیے جتنی بھی ویکیسنز بنی ہیں اُن کی افریقہ کے بچوں پر کامیابی کی شرح 55 فیصد رہی ہے۔
اس نئی ویکسین کی آزمائش سنہ 2019 سے شروع ہوئی تھی، کورونا وائرس کی وبا کے پھوٹنے سے کافی پہلے اور پروفیسر ہِل کے مطابق آکسفورڈ یونیورسٹی کی ٹیم نے کووڈ-19 کی ویکسین بنانے کے لیے ملیریا کی ویکسین کے لیے کی گئی ریسرچ سے بھرپور استفادہ کیا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ کسی میلیریا ویکسین کو کامیاب ہونے میں اتنا وقت اس لیے لگا ہے کیونکہ کورونا وائرس کے مقابلے میں ملیریا میں ہزاروں جینز ہوتے ہیں جبکہ کورونا وائرس میں چند درجن جینز ہوتے ہیں۔
پروفیسر ہِل کہتے ہیں کہ 'یہ حقیقت میں ایک بہت ہی تکنیکی چیلنج ہوتا ہے۔ ویکسینز کی بہت بڑی اکثریت اس بیماری کے خلاف زیادہ کارگر ثابت نہیں ہو سکی ہے کیونکہ یہ بہت مشکل بیماری ہے۔'
آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر کہتے ہیں کہ اس کے آزمائشی نتائج کا مطلب ہے کہ اس ویکسین میں 'صحت عامہ کو بہت زبردست فائدہ پہنچانے کی صلاحیت ہے۔'
'زندگیاں بچانے کی دوا'
میڈیکل ریسرچ کے معروف عالمی جریدے 'دی لانسیٹ' میں شائع ہونے سے قبل کے ایک مسودے کے مطابق، آکسفورڈ یونیورسٹی، نانورو برکینا فاسو اور امریکی ماہرین پر مشتمل ایک ریسرچ ٹیم نے R21/Matrix-M کے آزمائشی نتائج کی معلومات دی ہیں جو کہ اِس نے مئی اور اگست کے مہینوں میں کم مقدار اور زیادہ مقدار کی ویکسین کے کیے، یہ وہ وقت ہے جو ملیریا کے مرض کے پھیلنے سے پہلے اور بعد کے سیزن کے مہینے بنتے ہیں۔
آزمائشی نتائج سے ثابت ہوا کہ زیاد مقدار کی ویکیسن سے 77 فیصد کامیابی حاصل ہوئی جبکہ کم مقدار کی خوراک سے 71 فیصد کامیابی ملی۔
برکینا فاسو کے کلینیکل ریسرچ یونٹ نانورو کے پرنسپل انویسٹیگیٹر اور پیراسیٹولوجی کے پروفیسر، ہالیدو ٹِنٹو کہتے ہیں کہ اس آزمائش کے بہت ہی زبردست نتائج برآمد ہوئے ہیں اور یہ 'موثر ہونے کی بے مثال سطح' ظاہر کرتے ہیں۔
'ہم اس آزمائش کی اب تیسری سطح کی جانب پیش رفت کر رہے ہیں تاکہ ہم اس ویکسین کے محفوظ ہونے اور موثر ہونے کے بڑی سطح کے اعداد و شمار پیش کرسکیں جس کی اس خطے کے لوگوں کو بہت شدید ضرورت ہے۔'
اس ویکسین کو بنانے والے سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کا کہنا ہے کہ انھیں مکمل اعتماد ہے کہ جیسے ہی اس ویکسین کی ریگیولیٹرز توثیق کردیں گے وہ اس کی بیس کروڑ سے زیادہ خوراکیں تیار کردیں گے۔
'نووا ویکس' اس ویکسین کے معاون اور مددگار اجزا تیار کرتا ہے۔
براغطم افریقہ میں ملیریا بچوں کی اموات کا ایک بہت بڑا سبب ہے، اور برکینا فاسو کے وزیرِ صحت، پروفیسر شارلیمین اوادراؤگو کہتے ہیں کہ نئی ویکسین کے بارے میں جو اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں وہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ 'اسے آئندہ چند برسوں میں' لائسنس دیا جاسکتا ہے۔
'یہ ملیریا کو کنٹرول کرنے اور کئی زندگیوں کو بچانے کی ایک اہم اور موثر دوا ثابت ہو گی۔'